ججز کو گالیاں دینا اور ان سے بدتمیزی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ چیف جسٹس
تازہ ترین : 1

ججز کو گالیاں دینا اور ان سے بدتمیزی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ چیف جسٹس

حلفاً کہتا ہوں کہ سپریم کورٹ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ تمام فیصلے قانون اور ضمیر کے مطابق کیے ہیں۔ موجودہ حالات میں ججز اور وکلا کی بقا مشکل ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا تقریب سے خطاب

ججز کو گالیاں دینا اور ان سے بدتمیزی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ چیف جسٹس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16 دسمبر 2017ء): چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ ہم آئین و قانون اور ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔ ہم پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن ججز کو گالیاں دینا اور ان سے بد تمیزی کرنا کہاں کا طریقہ ہے؟ لیڈی ججز کے چیمبر میں گھس کر گالیاں نکالنا کہاں کا انصاف ہے؟ موجودہ دور حالات میں ججز اور وکلا کی بقا مشکل ہو گئی ہے۔

ایک جج کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ وکلا کی جانب سے موکلوں سے ڈھائی ڈھائی کروڑ فیس وصول کی جا رہی ہے۔ 15 ہزار روپے کورٹ فیس سے زیادہ وکلا 25 لاکھ روپے فیس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کچھ وکلا ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے فیس کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ شاید ہم وہ معیاری انصاف نہیں دے پا رہے جو لوگوں کا حق ہے۔ کیس بنتا نہیں وکیل کیس دائر کرنے کا کہتے ہیں۔

کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ کیس بنتا بھی نہیں ہے اور وکلا فیس لینے کے لیے درخواست ڈال دیتے ہیں۔ وکلا سائلین سے بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آج سے ہی کلائنٹس کے لیے فیس آدھی کرنے کا اعلان کر دیں۔ کیونکہ جمہوریت نہیں تو آئین نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا کیا مقام ہے میں نے اپنے فیصلے میں بتا دیا ہے۔

ہم اپنے آئین کا تحفظ کریں گے۔ وکلا کو بھی چاہئیے کہ وہ دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں۔وکلا کیسز دیکھ لیاکریں صرف پیسے پر توجہ نہ دیں۔صرف ایک سال ٹیسٹ دیں پھر اس کا انعام بھی دیکھ لیں۔ کیونکہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔میں اعتراف کرتا ہوں انصاف کی فراہمی میں تاخیر خرابی ہے ۔ عوام کو معیاری انصاف نہیں دے پا رہے ، دونوں اطراف سے ہونے والی کوتاہیوں کا ذمہ دار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچے کو شرمندگی کے ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ ناقدین کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے فیصلہ پڑھا تک نہیں ہوتا وہ بھی تبصرہ شروع کر دیتے ہیں۔ حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ اسی دن آنا ہے۔ ہم سے کسی نے نہیں کہا کہ فٓایسے فیصلہ کریں۔ ہم آزادی کے ساتھ کام کر رہےہیں اور ہر جج کو رائے دینے کا حق ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ سپریم کورٹ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ قانون میں اگر کہیں غلطی ہو تو نشاندہی کرنا جج کی ذمہ داری ہے۔ جج پوری ایمانداری اور دیانتداری سے فیصلہ کرتے ہیں۔ گاؤں میں بابا رحمت جس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اس کو گالیاں نہیں نکالتا۔آپ کے خلاف فیصلہ ہو تو یہ گالیاں نہ نکالیں کہ بابا کسی پلان کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ بابا کسی پلان کا حصہ نہیں بنا ہے نہ بنے گا۔جوڈیشری آپ کا بابا ہے اس کی ساکھ اور دیانت پر شک نہ کیجئیے۔ یہ پلان اور یہ دباؤ کہاں سے آگئے؟ یہ بھول جائیں کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ہے۔ ہم فیصلے آئین و قانون اور ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج تک کوئی ایسا پید انہیں ہوا جو ہم پر دباؤ ڈالے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 16/12/2017 - 13:42:06

اس خبر پر آپ کی رائے‎

Where is justice to give judges a challenge and to mislead them? Chief Justice Halfa says there is no pressure on the Supreme Court. The constitution and the protection of democracy are being eaten. All decisions have been made by law and conscience. In the present circumstances, the survival of judges and lawyer has become difficult. Addressing the function of Chief Justice of Pakistan Saqib Nisar

Chief Justice of Pakistan Saqib Nisar said that we make decisions according to constitution and law and conscience. There is no pressure on us. Chief Justice of Pakistan Saqib Nisar said in a meeting in Islamabad that it is my duty to provide justice to people. But where is the way to judge judges and to criticize them? Where is it justice to get rid of garbage in Lady judges' chambers? In present circumstances, the survival of judges and lawyer has become difficult

Related : Pakistan, Chief Justice, Supreme Court, Democracy, Lawyers