عمران خان نااہلی سے بچ گئے‘حنیف عباسی کی پٹیشن مسترد کردی گئی-نیازی سروسزلمیٹیڈ ..
تازہ ترین : 1

عمران خان نااہلی سے بچ گئے‘حنیف عباسی کی پٹیشن مسترد کردی گئی-نیازی سروسزلمیٹیڈ سے تحریک انصاف کے چیئرمین کا براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوسکا-سپریم کورٹ‘ جہانگیر خان ترین کو نااہل قراردیدیا گیا‘قومی اسمبلی کی رکنیت ختم

عمران خان نااہلی سے بچ گئے‘حنیف عباسی کی پٹیشن مسترد کردی گئی-نیازی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 دسمبر۔2017ء) سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نااہل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف مسلم لیگ نون کے سابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کی پٹیشن خارج کردی گئی ہے جبکہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیرخان ترین کو نااہل قراردیدیا گیا ہے-فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فلیٹس کا معاملہ نیازی سروسزسے متعلق ہے عمران خان کا اس سے براہ راست تعلق نہیں ہے‘عدالت نے الیکشن کمیشن کو غیرجانبدرانہ چھان بین کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام سیاسی جماعتوں کی غیرملکی فنڈنگ کے بارے میں چھان بین کرئے -نمازجمعہ اور لنچ کے وقفے کے بعد جج حضرات چیف جسٹس کے چیمبر میں جمع ہوئے اور تین بجے بنچ میں شامل معززجج صاحبان کمرہ عدالت میں آئے-چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے تینوں ارکان3بجکر20منٹ پر کورٹ روم نمبر 1 میں پہنچے جو کہ کھچا کھچ بھرا ہوا ہے‘سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی اہلیت کے حوالے سے فیصلہ سنانے کے لیے دوپہر دو بجے کا وقت مقرر کیا تھا تاہم فیصلہ 3بجکر منٹ پرسنانا شروع کیا گیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کراچی میں موجود ہیں اور انہوں نے کیس کا فیصلہ کراچی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں سنا جہاں وہ قیام پذیرہیں-چیف جسٹس کی جانب سے عدالت کے حاضرین سے تاخیرپر معذرت کی انہوں نے بتایا کہ ایک صفحے پرٹائیپنگ کی غلطی موجود تھی جس کی وجہ سے 250صفحات پڑھنے پڑے-چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا سپریم کورٹ نے فیصلے میں عمران خان کے خلاف حنیف عباسی کی پٹیشن کو خارج کردیا جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوا دیا اور چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق اکاﺅنٹس کی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان پر 2013 کے کاغذاتِ نامزدگی میں نیازی سروسز لمیٹڈ کو ظاہر نہ کرنے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ وہ اس کے اسٹیک ہولڈر نہیں تھے اور انہوں نے تمام متعلقہ دستاویزات پیش کیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بنی گالہ کے اثاثے عمران خان نے اپنے خاندان کے لیے خریدے تھے۔۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دے دیا، ان پر زرعی آمدن، آف شور کمپنیوں، برطانیہ میں جائیداد اور اسٹاک ایکسچینج میں اِن سائڈ ٹریڈنگ سے متعلق الزامات تھے۔۔سپریم کورٹ کے بینج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے اور عدالت عظمیٰ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو ان کے خلاف ان سائیڈ ٹریڈنگ سے متعلق کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

حنیف عباسی کی درخواستوں پر فیصلہ سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر 1 میں سنایا گیا یہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سنایا اور اس موقع پر ان کے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی موجود تھے۔اس موقع پر کمرہ عدالت میں پٹیشنر حنیف عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں طلال چوہدری اور مریم اورنگ زیب سمیت دیگر موجود تھے۔ عمران خان ان دنوں 4 روزہ دورے پر سندھ میں موجود ہیں اس لیے وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے، تاہم جہانگیر ترین بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری اور دیگر راہنماعدالت میں موجود تھے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دونوں رہنماو¿ں کے خلاف نااہلی کیس کا فیصلہ 14 نومبر کو محفوظ کیا تھا، جسے 15 دسمبر 2017 کو 3 بجے سنا دیا گیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کے فریقین کے جانب سے پیش کیے گئے دلائل کا ہر طرح سے جائزہ لیں گے، جس کے بعد ایسا فیصلہ سنائیں گے جو سب کو قابل قبول ہوگا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما حنیف عباسی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا ممکنہ فیصلہ سنائے جانے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی سیکورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے۔عدالت عظمیٰ کے اندر اور باہر غیر معمولی سیکیورٹی کے انتظام کیے گئے تھے، جن میں احاطہ عدالت میں 900 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جن میں 300 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ مذکورہ کیس پر وکلا نے 100 گھنٹے سے زائد دلائل اور 73 مقدمات کے حوالے دیئے جبکہ اس دوران درجن بھر ممالک کی اعلٰی عدلیہ کے تقریبا تین درجن فیصلوں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔58 سماعتوں کے بعد 14 نومبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے دونوں درخواستوں کا فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/12/2017 - 09:02:18

اس خبر پر آپ کی رائے‎