بھارت ،ْپبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں نصف سے زیادہ سوالات پاکستان کی ویب سائٹ سے نقل کیے گئے

سماجیات کے 90 فیصد سوالات مبینہ طور پر ایک آن لائن ڈسکشن فورم سے لیے گئے تھے ریاست میں ایک تنازع کھڑا ہوگیا ،ْ دوبارہ امتحانات لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ،ْ رپورٹ پرچہ جات کی جانچ کی جا رہی ہے ،ْکوئی غلطی یا کوتاہی ثابت ہوئی تو کمیشن جلد اس بارے میں لائحہ عمل طے کریگا ،ْسیکرٹری پبلک سروس کمیشن

بدھ 13 دسمبر 2017 15:40

ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2017ء) بھارتی ریاست ارونا چل پردیش میں پبلک سروس کمیشن (پی ایس سی) کے امتحانات میں نصف سے زیادہ سوالات پاکستان کی ایک ویب سائٹ سے نقل کیے گئے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ ارونا چل پردیش پبلک سروس کمیشن (اے پی پی ایس سی) کی جانب سے لیے گئے امتحان میں سوالات پاکستانی ویب سائٹ سی ایس ایس فارم ڈاٹ پی کے سے نقل کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق امتحانات دینے والے امیدواروں نے بتایا کہ کچھ سوالات 2008 کے یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحانوں سے نقل کیے گئے تھے جبکہ سماجیات کے 90 فیصد سوالات مبینہ طور پر ایک آن لائن ڈسکشن فورم سے لیے گئے تھے ،ْپی ایس سی کے امتحانات میں عمومی تاریخ ، سماجیات اور سیاسیات کے کچھ سوالات بھی غیر ملکی تناظر میں تھے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق ایک امیدوار کا کہنا تھا کہ امتحانات کے زیادہ تر پیپرز فوٹو کاپی تھے، جب ہم نے کراس چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سوالات تو پاکستانی ویب سائٹ سے نقل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پرچہ جات مرتب کرتے وقت کاپی پیسٹ سے کام لیا گیا جو غیر قانونی عمل ہے ،ْ اس حوالے سے ریاست میں ایک تنازع کھڑا ہوگیا اور دوبارہ امتحانات لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پبلک سروس کمیشن کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ پرچہ جات کی جانچ کی جا رہی ہے، اگر ان میں کوئی غلطی یا کوتاہی ثابت ہوئی تو کمیشن جلد اس بارے میں لائحہ عمل طے کرے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل 2015 میں بھی ریاست اروناچل پردیش کے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے پرچے آؤٹ ہوگئے تھے، جس پر چار افسران کو معطل کر دیا گیا تھا۔اس حوالے سے سماجی کارکن پاٹے تیم کا کہنا ہے کہ اے پی پی ایس سی نے امتحانات میں سوالات نقل کرکے دینا اپنی عادت بنا لی ہے جس پر ریاست کی حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :