ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کل بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر تعلیم یافتہ ..
تازہ ترین : 1
ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کل بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد ..

ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کل بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر تعلیم یافتہ ہے ،نواب ثنا ء اللہ خان زہری

سی پیک کی صورت میں ہمیں ترقی کا موقع مل رہاہے جس سے تعمیر وترقی کا نیا سفر شروع ہوگا ہماری نالائقی ہے ہم بلوچستان کے وسائل کو صحیح طرح استعمال نہیں کررہے ہیں ،وزیراعلی بلوچستان

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2017ء)وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کل بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر تعلیم یافتہ ہے سی پیک کی صورت میں ہمیں ترقی کا موقع مل رہاہے جس سے تعمیر وترقی کا نیا سفر شروع ہوگا ہماری نالائقی ہے کہ ہم بلوچستان کے وسائل کو صحیح طرح استعمال نہیں کررہے ہیں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہے گوادر کے بغیر پاکستان نا مکمل تھا اور سی پیک جیسی معاشی ترقی پاکستان میں نہیں آتی بلوچستان کو پڑھا لکھا اور پرامن بلوچستان بنائیں گے ۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں وائس آف بلوچستان کے زیراہتمام بلوچستان کے نوجوانوں میںافرادی قوت کی بہتری کے حوالے سے منعقدہ انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ،آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری ،وفاقی وزراء میر حاصل بزنجو ،میر جام کمال،اراکین قومی اسمبلی سردار کمال بنگلزئی ،جہانگیر خان ترین ،سینیٹر آغا شاہزیب درانی ،صوبائی وزراء نواب چنگیز مری ،میر سرفرازبگٹی ،سردار سرفراز ڈومکی،عبدالرحیم زیارتوال ،ڈاکٹر حامد اچکزئی ،میر اظہار حسین کھوسہ ،وزیراعلی کے مشیران محمد خان لہڑی ،عبیداللہ بابت ،سردار رضامحمد بڑیچ ،اراکین اسمبلی زمر ک خان اچکزئی ،سپوژمی اچکزئی ،عارفہ صدیق ،یاسمین لہڑی ،حکومت بلوچستان کے ترجمان انورالحق کاکڑ ،سیاسی رہنماء سردار یار محمد رند ،میر چنگیز جمالی ،سردار زادہ عمیر محمد حسنی ،سینئر صحافی سلیم صافی ،محمد مالک سمیت طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاکہ بلوچستان میں سب سے بڑا چیلنج مذہبی دہشتگردی کا ہے جس پر فورسز کے تعاون سے قابو پالینگے نام نہاد آزادی کا نعرہ لگانے والے بلوچستان کو نیٹو اور انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کر آزاد کروانے کا کہتے تھے ہم نے بھی پاک فوج کے ٹینکوں میں بیٹھ کر انکا مقابلہ کیا اورا نکی قمر توڑ دی ہے اب جو بچھے کچے ہیں وہ بھی راہ راست پر آجائیں گے ورنہ انہیں بھی سبق سیکھائیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ گوادر نعمت ہے گوادر کے بغیر پاکستان او رسی پیک منصوبہ نامکمل ہوتا ہم اپنی زندگی کی اننگز کھیل چکے ہیں اب صوبے کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے بلوچستان کی نصف آباد ی تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر تعلیم یافتہ ہے لیکن ہمارے پاس سمجھ دار اور پڑھے لکھے نوجوان بھی ہیں جنہیں کار آمد او رہنر مند بنائیں گے صوبائی حکومت ایسی پالیسیوں پر کام کررہی ہے جو ہنر مند نوجوانوں کو باعزت روزگار حاصل کرنے کیلئے قابل بنائے گی سی پیک کی صورت میں ترقی کا نیا سفر شروع ہورہاہے اس سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان قدرتی ذخائرا ور معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے ہمیں صوبے کے ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ انکے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں فیڈریشن پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا اور بلوچستان اتنا خوش قسمت صوبہ ہے کہ یہاں پر اتنے وسائل موجود ہیں کہ انکی آمدنی سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہر بیروزگار کو دیئے جاسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے نوجوانوں میں دس ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے ہیں اور اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے پچیس ہزار آسامیان پیدا کی ہیں جن پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع ہوگا ۔وزیراعلی بلوچستان نے مزید کہاکہ بلوچستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے مانگی ڈیم منصوبے پر کام شروع کیا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں کی روک تھام کیلئے 1960ء کے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے گا ۔انہوں نے وائس آف بلوچستان کی صوبے کے نوجوانوں کیلئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کرنے کا کہا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/12/2017 - 21:34:57

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں