خواتین کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری اور فلاحی ..
تازہ ترین : 1
خواتین کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ..

خواتین کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری اور فلاحی معاشرے کا بنیادی تقاضا ہے، پرویز خٹک

بیواؤں اور بے آسرا خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن ایکٹ 2015کا نفاذ بھی کیا گیا ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2017ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری اور فلاحی معاشرے کا بنیادی تقاضا ہے موجودہ صوبائی حکومت نے خواتین کے تحفظ اور حقوق نسواں کی بحالی کیلئے متعدد ایسے اقدامات کئے ہیںجو خواتین کی فلاح و ترقی کیلئے ہمارے پختہ عزم کا مظہر ہیں۔

صوبائی کابینہ نے حال ہی میںخواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے سے تحفظ کے ترمیمی ایکٹ کے مسودے کی منظوری دی ہے ۔ اسی طرح بیواؤں اور بے آسرا خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن ایکٹ 2015کا نفاذ بھی کیا گیا جبکہ صوبے میں عمر رسیدہ افراد بشمول خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے سینئر سٹیزن ایکٹ 2014بھی نافذ کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں صوبائی حکومت عنقریب گھریلو تشدد اورجلانے سے بچاؤ اور بحالی کے دو بل پیش کر رہی ہے اس کے علاوہ محکمہ سماجی بہبود ، خصوصی تعلیم اور ترقی نسواں پشاور میں "بولو اور بدلو"کے نام سے ٹول فری ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے جہاں صوبے بھر سے صنفی امتیازکی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کی جاتی ہے وہ وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں صوبائی کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن کے تحت ضلعی کمیٹیوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس سے کمیشن کی چئیرپرسن نیلم طورو کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی اور صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان خان نے بھی خطاب کیا اور کمیشن کے زیراہتمام خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق 16 روزہ مہم کے علاوہ حقوق نسواں سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی پرویز خٹک نے صوبائی کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن کے تحت ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل کو نہایت خوش آئند قرار دیااورپاکستان میں خواتین سے متعلق پہلی بار ضلعی کمیٹیوں کے قیام پر چیئرپرسن کمیشن نیلم طورو اور ان کی ٹیم مبارکباد دی انہوں نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانا متوازن معاشرے کی تشکیل کیلئے ناگزیر اور بنیادی انسانی حقوق کا لازمی حصہ ہے خواتین کو با اختیار بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔

صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں متعدد اقدامات کئے ہیں جن کی پاکستان میں مثال نہیں ملتی تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا سب سے اہم اقدام خواتین کو اپنی بہتری کیلئے فیصلہ سازی کے قابل بنانا ہے ۔ اس سلسلے میںصوبائی حکومت گذشتہ روز خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی کا با ضابط اعلان کر چکی ہے۔یہ پالیسی خواتین سے امتیازی سلوک کے خاتمے اور خواتین کو تعمیر و ترقی کے عمل میں مردوں کے شانہ بشانہ لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کی فہرست طویل ہے کارکن خواتین کیلئے پشاور اور مردان میںدوہاسٹل قائم کئے گئے ہیں جبکہ سوات میں ایک ہاسٹل کی تعمیر رواں مالی سال کے اے ڈی پی میں شامل ہے۔ صوبائی حکومت نے سول سیکرٹریٹ پشاور کی حدود میں کارکن خواتین کیلئے ڈے کیئر سنٹر بھی قائم کیا ہے جس کا عنقریب افتتاح کیا جائے گا۔

اسی طرح صوبے میں پہلے سے قائم 9ویلفیئر ہومز کے علاوہ صوبائی حکومت نے ہنگو اور صوابی کے اضلاع میں یتیم اور بے آسرا بچوں اور لڑکیوں کیلئے دو مزید ویلفیئر ہوم بھی قائم کئے ہیں۔ضلع مانسہرہ میں خواتین کیلئے ایک دارالامان قائم کیا گیا ہے ۔ چترال اور بنوں میں دو مزید دارالامان بھی رواں اے ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں۔یہ تمام اقدامات اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

تاہم خواتین کے مسائل کے حل کیلئے ایک مستقل اور الگ ادارے کا ہونا ایک دیرینہ ضرورت تھی ۔ خیبر پختونخوا نے حسب روایت اس کار خیر میں بھی پہل کی ہے۔2009میں صوبائی اسمبلی سے ایک قانون پاس کرایاگیا تھا جس کے تحت صوبائی کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن کا قیام عمل میں لایا گیا تاہم اس کمیشن کو احسن انداز میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے با اختیار اورمضبوط بنانے کی ضرورت تھی جو موجودہ صوبائی حکومت نے پوری کر دی۔

مذکورہ ایکٹ میں 2016میں ترمیم کے ذریعے کمیشن کو مالی اور انتظامی خود مختاری دی گئی ۔ یہ کمیشن اب مکمل طور پر فعال ہے اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہا ہے پرویز خٹک نے کہا کہ اس کمیشن کے تحت ضلعی سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل بہت بڑی کامیابی ہے۔ان کمیٹیوں کے قیام سے حقوق نسواں کی بحالی کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں خواتین کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ کمیٹیاں محض خانہ پری کی بجائے پوری تندہی سے کام کریںاور خواتین سے متعلق واقعات کی بروقت رپورٹنگ کے علاوہ حکومت کو اپنی سفارشات اور مسائل کی نشاندہی سے آگاہ کر دیا ہے انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن اور ضلعی کمیٹیوں کو حقیقی معنوں میں فعال بنانے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

یہ صوبائی حکومت کا وژن ہے اور ہمارے ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے۔ ہم اپنی خواتین کو مضبوط ،با اختیار،با وقار اور مفید شہری دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔خواتین کی فلاح و ترقی کیلئے ہمارے اقدامات ہماری نیک نیتی اور پختہ عزم کا واضح ثبوت ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/12/2017 - 20:28:21

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں