ملک وصوبے میں جمہوریت کے استحکام کیلئے نصف آبادی پر مشتمل خواتین کی بھرپور شرکت ..
تازہ ترین : 1
ملک وصوبے میں جمہوریت کے استحکام کیلئے نصف آبادی پر مشتمل خواتین کی ..

ملک وصوبے میں جمہوریت کے استحکام کیلئے نصف آبادی پر مشتمل خواتین کی بھرپور شرکت لازمی ہے ،محمد خان اچکزئی

خواتین ہمارے معاشرے میں برابر کی حصہ دار ہیں،تازہ ترین اعدادوشمار میں ووٹر لسٹ میں خواتین کے اندراج کا کم ہونا تشویشناک ہے،گورنر بلوچستان

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2017ء)گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک وصوبے میں جمہوریت کے استحکام کے لئے نصف آبادی پر مشتمل خواتین کی بھرپور شرکت لازمی ہے کیونکہ خواتین ہمارے معاشرے میں برابر کی حصہ دار ہیں تاہم یہ بات باعث تشویش ہے کہ ملک کے مختلف اضلاع میں موجود تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ووٹر لسٹ میں خواتین کا اندراج بہت کم ہے۔

حقائق بتاتے ہیں کہ مجموعی طورپر 136اضلاع میں مرد اورفر خواتین ووٹروں کے تناسب میں ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد کا فرق موجود ہے جو فوری طور پر توجہ اور اصلاحی اقدامات کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی ووٹرز ڈے سے متعلق گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ ایک پرقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع،صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، رکن صوبائی اسمبلی طاہر محمود، ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان جسٹس (ر) شکیل احمد بلوچ، صوبائی الیکشن کمشنر محمد نعیم مجید جعفر موجود تھے، قومی ووٹرز ڈے کے حوالے سے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کا بنیادی مقصد عوام میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن نے 2018ء کے جنرل الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹرز کے لئے آگاہی مہم اور رجسٹریشن کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ الیکشن کے انعقاد بلاشبہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور نادرا پر زور دیا کہ تمام ووٹرز بالخصوص خواتین کے اندراج کو یقینی بنانے، آئندہ ٹرن آؤٹ کو بڑھانے اور انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ اپنے آپ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کے لئے کوشاں ہے جن سے عوام اور سیاسی پارٹیوں کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جس سے جمہوری اقدار اور اختلاف رائے کو فروغ ملتا ہے۔ انسانی ارتقاء اور ترقی کے سفر میں جمہوریت انسان کی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے اور اس کی اصل خوبی یہ ہے کہ اختلاف رائے کا احترام سکھاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں جمہوریت ایک تدریسی عمل سے گزررہی ہے۔ سردست اس میں کئی خرابیوں کے باوجود وسعت اور بلوغت کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے اس بات پر امید ظاہر کی کہ سول سوسائٹی آرگنائزیشن، عوامی نمائندے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا الیکشن کمیشن کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے تاکہ آئندہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ بڑھایا جاسکے۔ گورنر نے الیکشن کمیشن،بائیو میٹرک اور الیکٹرونک مشین کے آئندہ انتخابات میں متعارف کرانے کی کاوشوں کو سراہاجن کی بدولت ووٹرز بالخصوص نوجوان خواتین اور معذور افراد کو اپنا حق رائے استعمال کرنے کا بھرپور موقع ملے گا۔

گورنر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ اس قابل ہوجائے گا کہ زیادہ اعتماد اور مہارت کے ساتھ اپنا کام کرسکے گا اور سیاسی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوارکرتے ہوئے رائے دہندگان کی شمولیت بڑھانے کے اصل مقصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/12/2017 - 20:01:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں