مقبوضہ بیت المقدس دنیا کا قدیم ترین شہر
تازہ ترین : 1
مقبوضہ بیت المقدس دنیا کا قدیم ترین شہر

مقبوضہ بیت المقدس دنیا کا قدیم ترین شہر

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 دسمبر۔2017ء)مقبوضہ بیت المقدس دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے،1948ءمیں جب برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ریاست قائم کی تو یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا۔اقوام متحدہ نے علاقے کو فلسطین اور اسرائیل میں تقسیم کرنے کے لیے جو نقشہ بنایا اس میں بھی یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی سفارش کی تھی مگر فلسطینیوں نے یہ پلان تسلیم نہیں کیا اور اپنے پورے علاقے کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

1948ءکی جنگ میں اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کر لیا جبکہ مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں رہا۔1967ءکی جنگ میں اسرائیل نے عربوں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر اردن سے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی چھین لیا۔اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو اپنا علاقہ قرار دیا تو 1967ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی مخالفت کی۔

1993ءکے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اور اسرائیل نے ایک دوسرے کا وجود تسلیم کیا، غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم کی گئی، یروشلم کا معاملہ بعد میں طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔نیتن یاہو کی سخت گیر حکومت قائم ہونے کے بعد سے رہے سہے مذاکرات بھی ختم ہو گئے اور اب اسرائیل مشرقی یروشلم کے علاقوں میں بھی یہودی بستیاں قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/12/2017 - 12:03:51

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں