ریاست دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی، ہم سب ختم نبوت کے محافظ ہے،
تازہ ترین : 1
ریاست دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی، ہم سب ختم نبوت کے محافظ ..

ریاست دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی، ہم سب ختم نبوت کے محافظ ہے،

پاکستان کی معیشت 10، 10 سال تک آمروں کے چنگل میں رہی، ملک صرف غیر ملکی امداد اور قرض کی بنیاد پر چلتا رہا، پاکستان کا سودا کرکے آمروں نے پیسے تو حاصل کئے لیکن ترقی ممکن نہ ہو سکی وزیرداخلہ احسن اقبال کا رورل اکانومی کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 نومبر2017ء) وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس سرنڈر کا کوئی آ پشن نہیں، ریاست دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی، ہم سب ختم نبوت کے محافظ ہے، پاکستان کی معیشت 10، 10 سال تک آمروں کے چنگل میں رہی، ملک صرف غیر ملکی امداد اور قرض کی بنیاد پر چلتا رہا، پاکستان کا سودا کرکے آمروں نے پیسے تو حاصل کئے لیکن ترقی ممکن نہ ہو سکی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو رورل اکانومی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کھیل پاکستان کے ساتھ تواتر سے ہوتا رہا، جب ملک پٹڑی پر چڑھنے لگتا ہے تو اسے نیچے اتار دیا جاتا ہے، جب حکومت سنبھالی تو معیشت تباہ حال اور دہشت گردی زوروں پر تھی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم خواب دیکھتے بھی ہیں اور اس کو عملی جامہ بھی پہناتے ہیں، سقراطوں اور بقراطوں نے ہم پر تنقید کی، ہمارے خواب شیخ چلی کے نہیں ہیں، اب باہرکے ممالک بھی ہمارے ساتھ یہ خواب دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیہی معیشت کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، غربت کی خاتمہ کی بغیر لوگوں کو شہروں میں آنے سے نہیں روک سکتے، ملک میں 120ملین موبائل کے ذریعے نیٹ ورکنگ خوش آئند ہے، دیہی علاقوں میں شعور اور آگاہی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نالج اکانومی ہی پائیدار ترقی کی ضامن ہے، 18ویں ترمیم کے بعد رورل اکانومی کو مضبوط کرنا مرکز کے اختیار سے باہر ہے، رورل اکانومی کے حوالہ سے سینٹر قائم کرنے کا مقصد فرق کم کرنا ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ دھرنے والوں کے ناجائز مطالبات نہیں مان سکتے، ہم ملک میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ تین گھنٹے میں فیض آ باد خالی کرا سکتے ہیں۔ میں پورے پاکستان کا وزیر داخلہ کا ہوں، ملک کے حالات کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/11/2017 - 18:15:26

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں