قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی جانب سے عددی اکثریت کے بل پر الیکشن ایکٹ
تازہ ترین : 1
قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی جانب سے عددی اکثریت کے بل پر الیکشن ایکٹ

قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی جانب سے عددی اکثریت کے بل پر الیکشن ایکٹ

2017کی شق 203میں ترمیم کے بل کومسترد کرنا تشویشناک ہے، شاہ محمود قریشی پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002میں موجود سابق شق(1)5کو الیکشن ایکٹ 2017کی شق203سے بدل کر بحران کھڑا کیا گیا ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی کیلئے اہلیت کا معیار ،جمہوری عمل، پارلیمان کی رکنیت کے معیار کے برابر ہونا چاہئے، رہنماء تحریک انصاف کا قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2017ء)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002میں موجود سابق شق(1)5 کو الیکشن ایکٹ 2017کی شق203سے بدل کر بحران کھڑا کیا گیا ہے۔2002کے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی شق(1)5 کسی بھی ایسے شخص پرکسی سیاسی جماعت کا عہدہ سنبھالنے پر قدغن عائد کرتا ہے جو پارلیمان کی رکنیت کا اہل نہیں۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے عددی اکثریت کے بل بوتے پر الیکشن ایکٹ 2017کی شق 203میں ترمیم کے بل کومسترد کرنے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ قانون میں موجود یہ قدغن منطقی اور عوامی نمائندوں کے انتخاب کے آئینی تقاضوں سے مکمل مطابقت کی حامل تھی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی طور پر یہ بالکل درست تھا کہ ایسا شخص جو پارلیمان کا رکن بننے کا اہل نہیں ، اسے سیاسی جماعت میں عہدہ رکھنے یا جمہوری عمل کا حصہ بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017کی شق203آئینی ڈھانچے اور اسکی روح سے کلی طور پر متصادم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیاجانے والے شخص پر جمہوری عمل میں حصہ لینے کے راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے نا اہل شخص پر سیاسی جماعت کی سربراہی کا دروازہ کھول کر ملکی جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور اس روح کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی جس کے تحت دستور پاکستان تیار کیاگیاتھا۔شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی کے لیے اہلیت کا معیار اور جمہوری عمل، پارلیمان کی رکنیت کے معیار کے برابر ہونا چاہیے۔

اس میں کسی تضاد کی گنجائش نہیں کیوں کہ جمہوری عمل میں دونوں کا کردارانتہائی اہمیت اور حساسیت کا متقاضی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفرادی نوعیت واہمیت کی حامل قانون سازی کر کے ایک ایسے شخص کی سیاسی حیات کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی ہے جس پر وزارت عظمیٰ کے دروازے بند کیے گئے اورجس کے بارے میں فیصلہ دیا گیا کہ وہ آئین کی شق 62 میں دی گئی صداقت اور امانت کے معیا ر پر پورا نہیں اترتا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 21/11/2017 - 22:28:41

اپنی رائے کا اظہار کریں