کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا منصوبہ کے فور آئندہ برس مکمل کر لیا ..
تازہ ترین : 1
کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا منصوبہ کے فور آئندہ برس ..

کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا منصوبہ کے فور آئندہ برس مکمل کر لیا جائے گا، گورنر سندھ

صوبائی حکومت کے مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان تعاون پانی کے موئثر انتظام کے لئے ناگزیر ہے پانی انسانی زندگی کی بقا کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے لئے بھی ناگزیر ہے،پانی کے ذخیرہ کئے جانے والے حصوں کی حفاظت اور نہروں کے پشتوں کو مستحکم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ اس کی مسلسل نگرانی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ،مستقبل میں پانی کو محفوظ بنانے کے ضمن میں نوجوانوں کو تیار کرنے کے لئے انھیں تربیت اور مہارت فراہم کرنا ہوگی، محمد زبیر کا تیسری انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2017ء)گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پانی انسانی زندگی کی بقا کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے لئے بھی ناگزیر ہے ، کراچی کی آبادی کے تناسب سے پینے کے صاف کی فراہمی کے لئے تعمیر ہونے والے عظیم کے فور منصوبہ کا پہلا مرحلہ اگلے برس جون میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ بھی جلد شروع کردیا جائے گا ، کراچی ترقیاتی پیکج میں بھی پینے کے صاف پانی کا منصوبہ شامل ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیسری انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا ۔ اس موقع پر چیئر پرسن زوہیراشعر ،حصار فائونڈیشن کی بانی سیمی کمال ،گلوبل واٹر پارٹنر شپ کے ایگزیکٹیو سیکریٹری روڈلف ، پاکستان میں ہنگری کے سفیر استوان سزابو ، اینگرو کا رپوریشن کے صدر / چیف ایگزیٹیو آفیسر غیاث خان ، آکسفورڈ یونیورسٹی پروفیسر ڈیوڈ گرے سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پانی کی اہمیت اور اس کے استعمال بارے میں آگاہی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے با الخصوص کاشتکاروں کو بھی آگاہ کیا جائے کہ ضرورت کے مطابق پانی کو استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی کو محفوظ بنایا جا سکے ،زرعی مقاصد کے لئے پانی کے مزید موثر اور کفایتی استعمال کے لئے کسانوں کو آگاہی دینا وقت کا اہم تقاضہ ہے، پانی کے ذخیرہ کئے جانے والے حصوں کی حفاظت اور نہروں کے پشتوں کو مستحکم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ اس کی مسلسل نگرانی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ،مستقبل میں پانی کو محفوظ بنانے کے ضمن میں نوجوانوں کو تیار کرنے کے لئے انھیں تربیت اور مہارت فراہم کرنا ہوگی ، پاکستان میں پانی کے سیکٹر کو پانی میں اضافہ اور اسے مزید محفوظ بنانے کے لئے ہدایات اورضروری آگاہی فراہم کرنا ہوگی اس ضمن میں نیشنل پلان ترتیب دے کر چاروں صوبوں میں ضروری اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا ۔

انہوں نے حصار فائونڈیشن اور این ای ڈی یونیورسٹی کے درمیان باہمی اشتراک خوش آئند ہے ، پینے کے صاف پانی ، سیوریج کے پانی ، ایگری کلچر اور دیہی و شہری ترقی کے لئے ترجیحی اقدامات کرناہونگے ،صوبائی حکومت کے مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان تعاون پانی کے موئثر انتظام کے لئے ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی وفود کی کانفرنس میں شرکت کراچی میں امن و امان کے قیام کا واضح مظہر ہے ، 2013 ء کے مقابلہ میں آج امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے امن و امان کے قیام میں فوج ، رینجرز ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا کردار ناقابل فراموش ہے ،امید ہے کہ کانفرنس کی سفارشات پانی کو محفوظ بنانے اور اس کے استعمال میں کفایت شعاری میں معاون ثابت ہوگی۔

کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 21/11/2017 - 22:03:26

اپنی رائے کا اظہار کریں