چیئر مین صاحبزادہ سعید کی زیر صدارت پیڈوبورڈآف ڈائریکٹرزکا 21واںاجلاس کا انعقاد ..
تازہ ترین : 1

چیئر مین صاحبزادہ سعید کی زیر صدارت پیڈوبورڈآف ڈائریکٹرزکا 21واںاجلاس کا انعقاد

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2017ء)خیبرپختونخواحکومت نے حکومتی سطح پرکام کرنے والی پاکستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیئرورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیواو) کو ضلع چترال میں 506میگاواٹ کے 3پن بجلی کے منصوبے فوری طورپرشروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے جبکہ توانائی کے تمام منصوبوں کی مالی اورٹیکنیکی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے منصوبوں کاششماہی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

اس بات کا فیصلہ چیئرمین پیڈوبورڈ صاحبزادہ سعید احمد کی زیر صدارت پیڈوبورڈ آف ڈائریکٹرزکی21ویں اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی انجینئرنعیم خان،ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ارشدنوید،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ مس شاہانہ، پیسکو چیف انجینئرشبیر احمدجیلانی،سرحدچیمبرآف کامرس کے صدرزاہدشنواری،سکندرخان،عبداللہ شاہ اورفواداسحاق نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایف ڈبلیواو کے ذریعے ضلع چترال میںپن بجلی کی پیداوارکے تین منصوبوں لاسپورموجی گرام ہائیڈروپاورپراجیکٹ230میگاواٹ، شوشگئی زھنڈولی ہائیڈروپاورپراجیکٹ144میگاواٹ،شوگوسن ہائیڈروپاورپراجیکٹ132میگاواٹ شروع کرنے کے بارے میں مینجمنٹ اورٹیکنکل کمیٹیوں کی سفارشات کا جائزہ لیا گیا اور 503میگاواٹ کے مجموعی پیداوارکے تین منصوبوں کو ایف ڈبلیواوکو دینے کی اصولی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پیڈوبورڈ نے توانائی کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس بات پر اصولی اتفاق کیا کہ توانائی کے تمام جاری اورمکمل ہونے والے منصوبوںکی مالی اور ٹیکنکل مانیٹرنگ کے لئے سال میں دومرتبہ ششماہی کی بنیاد پرآڈٹ کیاجائے گاتاکہ مالی اور انتظامی امورکو شفاف طریقے سے چلایا جاسکے اور اس میں کرپشن کا زیروعمل دخل ہو۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میںاپنے وسائل سے پیداہونے والی 56میگاواٹ پن بجلی صنعتی شعبے کے استعمال میں لانے کے لئے KPازمک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

بورڈ کو یہ بھی آگاہ کیا گیاکہ توانائی کے منصوبوں کادائرکاربڑھانے کے لئے ہائیڈل ڈیویلپمنٹ فنڈزایکٹ میں ترمیم لانے کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں بل پہلے ہی پیش کیا گیاہے جس کی منظوری کے بعد ہائیڈل ڈیویلپمنٹ فنڈز تبدیل ہوکرانرجی ڈیویلپمنٹ فنڈز کی شکل اختیارکرلے گا۔اجلاس میں پیڈوملازمین کو درپیش مسائل کے حل کے لئے بھی مختلف تجاویز پر غورکیا گیااور اسکے حل کے لئے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے پر زوردیا گیا۔
وقت اشاعت : 19/11/2017 - 19:10:09

اپنی رائے کا اظہار کریں