اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی دوڑیں ..
تازہ ترین : 1

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی دوڑیں لگ گئیں

آئی جی اسلام آباد خالد خٹک جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے ملاقات عدالتی آرڈر کی کاپی بھی ساتھ لے جائیں یہ نہ ہو بعد میں کہیں کہ آرڈر نہیں ملا ، فاضل جج ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق کے حکم پر ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسران ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی دوڑیں لگ گئیں آئی جی اسلام آباد خالد خٹک جج کے چیمبر میں پہنچ گئے معتبر ذرائع کے مطابق اسلام آبادہائی کورٹ کا دھرنے کے شرکاء کو ہر صورت ہفتے کی صبح دس بجے تک ہٹانے کے حکم کے بعد کئی دنوں سے سوئی ضلعی انتظامیہ اور وفاقی پولیس کے افسران کی دوڑیں لگ گئیں ہیں اور چیف کمشنر آفس میں بڑوں نے سر جوڑ لئے اور عدالت عالیہ کا فیصلہ آنے کے بعد آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی فاضل جج شوکت عزیز صدیقی سے ان چیمبر ملاقات ہوئی ہے اس حوالے سے ذرائع کا مذید کہناتھا دوران ملاقات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی اسلام آباد کے ہاتھ میں عدالتی آرڈر کی کاپی تھماتے ہوئے ہدایت جاری کی یہ عدالتی آرڈر بھی ساتھ لے جائیں یہ نہ ہو بعد میں کہیں کہ آرڈر نہیں ملا ہفتے کی صبح دس بجے تک اوکے کی رپورٹ چائیے جتنی نفری کی ضرورت ہولے جائیں کل تک دھرنہ ختم کریں دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی سربراہی میںاہم اجلاس ہو اجس میں راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس کے نارواسلوک اور دھرنے کے شرکاء کی پشت پناہی کرنے کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ہر حال میں عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیااس حوالے سے ذرائع کا مزید کہناتھا کہ اجلاس میں ایس ایس پی اسلام آباد ساجد کیانی ،اے آئی جی اسپیشل برانچ کپٹین (ر) محمد الیاس ،اے آئی جی آپریشن عصمت اللہ جونیجو ،اور انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی جس کے بعد اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں کو نماز جمعہ کے بعد سیل کرتے ہوئے آستایہ خیریہ اور دیگر مدراس کے طلبہ کو فیض آباد جانے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق کے حکم پر ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/11/2017 - 16:19:32

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں