امریکی مسلم باسکٹ بال کھلاڑی ترانے کی بیحرمتی کے جرم میں کالج ٹیم سے باہر
تازہ ترین : 1

امریکی مسلم باسکٹ بال کھلاڑی ترانے کی بیحرمتی کے جرم میں کالج ٹیم سے باہر

امریکی مسلم باسکٹ بال کھلاڑی ترانے کی بیحرمتی کے جرم میں کالج ٹیم سے ..
کینساس(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17نومبر2017ئ) ایک امریکی مسلمان طالبعلم اور باسکٹ بال کھلاڑی کو مذہبی وجوہات کی بنا پر قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کے جرم میں مغربی کینساس کے ایک کالج کی باسکٹ بال ٹیم سے نکال دیا گیا ہے ۔ اس واقعے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا گارڈن سٹی کمیونٹی کالج نے 19سالہ رسول سمیر کے شہری حقوق سلب کیے ہیں جنہوں نے یکم نومبر کو قومی ترانے کے دوران بھی کھیلنا جاری رکھا جس کے باعث ان کی ایک مداح کے ساتھ تو تو میں میں ہوگئی جس نے ان پر جھنڈے کی توہین کرنے کا الزام بھی لگایا ۔

گارڈن سٹی کمیونٹی کالج کا کہنا ہے کہ سمیر کو ٹیم کے لیے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی پر نکالا گیا ہے کیوں کہ وہ قومی ترانہ شروع ہونے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کورٹ سے باہر نہیں گئے تھے ۔ رسول سمیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی احتجا ج نہیں کیا ، امریکی سول لبر ٹیز یونین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک خط کے مطابق سمیر کا کہنا تھاکہ کیوں کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے ان کا ایمان انہیں اللہ کے علاوہ کسی کی بھی تعظیم سے روکتا ہے ۔

سمیر امریکی ترانہ بجنے کے دوران مسلسل پریکٹس کرتے رہے جس کے باعث سٹینڈ میں سے ہارورڈ نامی ایک شائق کورٹ میں داخل ہوا اور اس کی سمیر سے خاصی تو تو میں میں ہوئی ،اس دوران ایک کیمپس پولیس افسر نے ان دونوں کو علیحدہ کیا جس کے بعد سمیر کو کورٹ سے باہر لیجا یا گیا اور وہ شائق بھی سٹینڈ میںواپس چلا گیا جہاں بعض لوگوں نے اس کے اس اقدام کو سراہا ۔امریکی سول لبر ٹیز یونین کا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ رسول سمیر کو امریکی آئین کی پہلی شق کے تحت اپنے حقوق کے استعمال پر ٹیم سے باہر کیا گیا ہے تاہم وہ ابھی مزید معلومات اکٹھی کررہے ہیں ۔
وقت اشاعت : 17/11/2017 - 15:05:33

اس خبر پر آپ کی رائے‎