ماہرہ خان کی فلم ''ورنہ'' پر پابندی عائد کیے جانے کی اصل وجہ سامنے آ گئی
تازہ ترین : 1

ماہرہ خان کی فلم ''ورنہ'' پر پابندی عائد کیے جانے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

ماہرہ خان کی فلم ''ورنہ'' پر پابندی عائد کیے جانے کی اصل وجہ سامنے آ گئی
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2017ء):پاکستانی فلمسٹار ماہرہ خان کی فلم ''ورنہ'' کی نمائش پر سنسر بورڈ نے پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ فلم میں موجود کچھ غیر مناسب مواد قرار دیا جا رہا تھا لیکن پروگرام اینکر مطیع اللہ جان نے اس فلم میں موجود غیر مناسب مواد کی تفصیلات بتا دیں، اپنے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ فلم میں گورنر کا تعلق پنجاب سے دکھایا گیا ہے۔

فلم میں گورنر وزیر داخلہ کو کہہ رہے ہیں کہ یہ مقدمہ پنجاب بھجوا دیں، وہاں میں اس کو سنبھال لوں گا۔ ان کے اپنے بیٹے پر زیادتی کا الزام ہوتا ہے اور ڈی جی ایف آئی اے گورنر کے بیٹے کو بچانے کے لیے بیک گیٹ سے کچھ ٹکٹس بنواتا ہے پاسپورٹ پر مہریں بھی لگوائی جاتی ہیں، جس کے بعد وزیر داخلہ فون پر اپنے آپریٹر کو کہتے ہیں دبئی کے شہزادے سے میری بات کروائیں کیونکہ وہاں سے بھی ثبوت بنوانا ہوتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کی بہت سی چیزیں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پانامہ کیس کے گواہان اور شواہد سے بھی ملتی ہیں۔ ایک موقع پر وزیر اعظم سے بھی بات کرتے ہیں اور دکھایا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ میں احرام میں کھڑے ہو کر وزیر داخلہ سے بچانے کے لیے بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس فلم کی ایک اور بات یہ بھی ہے کہ اس میں ماہرہ خان اپنے خاوند کو کہتی ہیں کہ میں نے گورنر کے بیٹے سے بدلہ لینا ہے اور وہ بدلہ لینے کے لیے دوبارہ گورنر کے بیٹے سے تعلقات بناتی ہیں، جو ہماری روایات کے مطابق غلط معنوں میں لیا جا سکتا ہے۔

ماہرہ خان یہ بھی کہتی ہیں کہ خاوند کے ساتھ رہوں گی بھی نہیں اور گورنر کے بیٹے کو چھوڑوں گی بھی نہیں۔ فلم میں پولیس ، امیگریشن اور دوسرے اداروں کے ایسے مناظر ہیں جس سے تفریح کی بجائے نفرت کا عنصر پیدا ہو سکتا ہے۔ مطیع اللہ نے مزید کیا بتایا آپ بھی دیکھیں:

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/11/2017 - 11:32:52

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں