خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا عمل بلین ٹری سونامی کی کامیابی تک محدود نہیں تمام شعبوں ..
تازہ ترین : 1
خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا عمل بلین ٹری سونامی کی کامیابی تک محدود ..

خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا عمل بلین ٹری سونامی کی کامیابی تک محدود نہیں تمام شعبوں میں اہداف حاصل کر لئے ہیں، پرویز خٹک

ایک ارب درخت اُگائے اور دو ارب درخت ٹمبر مافیا سے بچائے،ہمارے اقدامات سے درختوں کی قدرتی اُگائی کاسلسلہ بھی شروع ہوا تبدیلی ہر ادارے کی کارکردگی میں نظر آرہی ہے، عوام کو تعلیم اور صحت سمیت تمام سماجی خدمات کے شعبوں میں سہولیات ملنے لگی ہیں، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کا بلین ٹری سونامی کی کامیابی کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ بلین ٹری سونامی کی کامیابی پر پر تپاک استقبال کیا گیا ۔ انہوںنے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا عمل بلین ٹری سونامی کی کامیابی تک محدود نہیں۔ تمام شعبوں میں اہداف مکمل کرلئے گئے ہیں اور یہ تبدیلی ہر ادارے کی کارکردگی میں نظر آرہی ہے۔

عوام کو تعلیم اور صحت سمیت تمام سماجی خدمات کے شعبوں میں سہولیات ملنے لگی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جب ہم پرانے نظام سے نئے نظام کی طرف آرہے تھے تو ہمیں قدم قدم پر مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑالیکن ہماری ہمت اور جرات مزاحمت کرنے والوں سے کہیں زیادہ تھی ۔اسلئے ہم نے تمام اداروں سے سیاست بازی کا خاتمہ کیا اور اُنہیں عوام کی خدمت پر لگا دیا ۔

وہ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ بلین ٹری سونامی کی کامیابی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان، پی ٹی آئی کے سنٹرل جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین، وزیراعلیٰ کے مشیر اشتیاق ارمڑ اور محکمہ جنگلات کے حکام نے بھی خطاب کیا۔ انہوںنے اعلان کیا کہ اشتیاق ارمڑ کو اُن کی کارکردگی کی بناء پر صوبائی وزیر بنایا جا رہا ہے آئندہ الیکشن میں جیت پر2 ارب مزید درخت اُگائے جائیں گے۔

انہوں نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ترقی کا بھی اعلان کیا۔انہوںنے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ادارے سیاست زدہ تھے ، عوام کو ریلیف نہیں مل رہا تھا ۔ہم نے حکمرانی کے نئے اسلوب ہر شعبے میں متعارف کرائے ۔جنگلات پرٹمبرمافیا کا راج ختم کیا کیونکہ وہ ونڈفال کے قانون کے پیچھے چھپ کر جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی کرتے تھے اور 2 ارب روپے کے جنگلات کاٹے گئے ۔

ہم نے اس قانون پر پابندی لگائی جبکہ ایک ارب درخت اُگائے اور دو ارب درخت ٹمبر مافیا سے بچائے۔ہمارے اقدامات سے درختوں کی قدرتی اُگائی کاسلسلہ بھی شروع ہوا۔انہوںنے بلین ٹری سونامی کے حوالے سے درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہمیں سٹیٹس کو ، اورٹمبر مافیا کے خلاف لڑنا پڑا اور ہمیں کامیابی ملی۔یہ ایک ہمہ گیر پلان تھا جس کے تحت نرسریاں اُگائی گئیں، کمیونٹی کو شریک کیا گیا ، نوجوانوں کو اس طرف راغب کیا اوریہ پورا عمل اس ہمہ گیر پراجیکٹ کی کامیابی کیلئے ناگزیر تھا۔

یہ پراجیکٹ ہر حال میں کامیاب بنانا تھا کیونکہ اس کا وژن عمران خان نے دیا تھا اور اس پراجیکٹ کیلئے ہم عوام کو بھی جوابدہ تھے ۔وزیراعلیٰ نے اداروں کو فعال بنانے، اس میں سیاست بازی ختم کرنے اور عوامی مرضی کے تابع بنانے کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوںنے کہاکہ جب وہ اقتدار میں آئے تو سارے ادارے زبوں حالی کا شکار تھے ۔

کرپشن ، بدعنوانی اور اقربا پروری عروج پر تھی ۔ہم نے ہر ادارے میں اپنے اہداف متعین کئے ۔ہم نے تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں میں اہداف کے حصول کیلئے قانون سازی کی ۔سابقہ حکومتوں میں ادارے عوام کی خواہشات کے مطابق ڈیلیور کرنے کے قابل نہیں تھے جن کو ہم نے ڈیلیور ی کے قابل بنایا ۔پولیس کو سیاستدانوں کی غلامی سے آزاد کیا اور عوام کی خدمت پر لگا دیا۔

تمام شعبوں کو عوامی خدمت کیلئے فعال بنانے کیلئے کل وقتی کام کیا۔پرویز خٹک نے اپنی حکمرانی کا دوسری حکومتوں کے ساتھ موازنہ کیا اور چیلنج کیا کہ ہماری جیسی حکمرانی کا ماڈل بنا کر دکھائیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ہر شعبے میں تبدیلی نظر آرہی ہے جن کی آنکھوں پر پٹی لگی ہوئی ہے یا جو اندھے ہیں اور اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے اُن کو یہ تبدیلی نظر نہیں آسکتی۔

انہوںنے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی نے انسانی بقاء کو لاحق ہونے والے خطرے کی سطح خطرناک حد تک بڑھا دی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور کے مطابق ماحولیات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔ہم گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تغیرات اور اس کے نتیجے میں لاحق خطرات سے غافل نہیں ۔یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے جنگلات کی بڑھوتری اورشجرکاری کیلئے صوبے میںگرین اکانومی کی بنیادرکھی۔

موجودہ جنگلات کے کٹائو کو روکنے ، اس کو تحفظ دینے اور اس کی بحالی جیسے کام شروع کئے ۔صوبے کے اضافی رقبے پر جنگلات اُگانے کی مہم شروع کی تاکہ کٹائو اور قدرتی اُگائو کو متوازن بنایا جا سکے اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری زمین کو قبضہ مافیا سے چھڑا کر اُس پر بھی شجرکاری شروع کی ۔اس پلان کی کامیابی بظاہر ناممکن تھی لیکن ہم نے شجرکاری مہم کو کامیاب کرکے دکھایا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/11/2017 - 23:08:14

اپنی رائے کا اظہار کریں