پرائمری اسکولز میں مرحلہ وار بھرتیوں کے ذریعہ خواتین اساتذہ میں اضافہ کیا جائے،سندھ ..
تازہ ترین : 1
پرائمری اسکولز میں مرحلہ وار بھرتیوں کے ذریعہ خواتین اساتذہ میں اضافہ ..

پرائمری اسکولز میں مرحلہ وار بھرتیوں کے ذریعہ خواتین اساتذہ میں اضافہ کیا جائے،سندھ اسمبلی کا مطالبہ

یہ تو صنفی امتیاز ہو گا کہ پرائمری اسکولز سے مر د اساتذہ کو نکال دیا جائے ، خواتین اساتذہ کی بھرتی میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا،نثار احمد کھوڑو

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء) سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے پرائمری اسکولز میں مرحلہ وار بھرتیوں کے ذریعہ خواتین اساتذہ میں اضافہ کیا جائے ۔ یہ مطالبہ ایک نجی قرار داد کے ذریعہ کیا گیا ، جو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ یہ قرار داد ایم کیو ایم کی خاتون رکن رعنا انصار نے پیش کی تھی ۔ قرا رداد میں کہا گیا کہ صوبے میں بہتر نتائج کے لیے پرائمری اسکولوں میں بچوں کو پڑھانے کی غرض سے خواتین اساتذہ کا تقرر کیا جائے ۔

سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ یہ تو صنفی امتیاز ہو گا کہ پرائمری اسکولز سے مر د اساتذہ کو نکال دیا جائے ۔ سندھ میں گرلز اسکولز بھی ہیں اور بوائز اسکولز بھی ہیں اور مخلوط تعلیم والے اسکول بھی ہیں ۔ سندھ میں خواتین اساتذہ کی بھرتی میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتاہے ۔ کچھ دور دراز کے علاقے ایسے ہیں ، جہاں خواتین کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے ، وہاں مرد اساتذہ جاتے ہیں ۔

یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ مردوں کو پڑھانا نہیں آتا ۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ مغربی ممالک میں پرائمری اسکولز میں زیادہ تر خواتین اساتذہ ہیں ۔ مغرب نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے کیونکہ خواتین اساتذہ بچوں کو ماؤں کی طرح پڑھاتی ہیں ۔ پرائمری اسکولز میں خواتین اساتذہ میں بتدریج اضافہ کیا جائے کیونکہ ایک ساتھ مرد اساتذہ کو نہیں ہٹایا جا سکتا ۔

قرار داد کے متن میں یہ ترمیم کر دی جائے کہ پرائمری اسکولز میں بتدریج خواتین اساتذہ میں اضافہ کیا جائے گا ۔ اسمبلی نے یہ ترمیم شدہ قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی ۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن خیرالنساء مغل کی ایک قرار داد اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ گھروں میں کام کرنے والے کارکنوں بشمول خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی رجسٹریشن کے لیے پالیسی بنائی جائے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/11/2017 - 19:36:01

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں