حکومت کی تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت اور وارننگ
تازہ ترین : 1
حکومت کی تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت اور وارننگ

حکومت کی تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت اور وارننگ

دھرنے کے شرکاء کو آخری وارننگ دے رہے ہیں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا، حکومت اور جڑواں شہریوں کے صبر سے نہ کھیلا جائے،خلاف قانون کوئی مطالبات نہیں مانیں گئے، ہم پرامن اور مذاکرات کے ذریعے معاملے کا حل چاہتے ہیں،دین کے نام پر جو لوگ آئے انہوں نے وعدہ خلافی کی اور پرامن احتجاج کی بجائے راستے روکے، حکومت نے ابھی تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، چند سو لوگوںکو ہٹانا مشکل نہیں تھا ، حکومت نے ختم نبوت ؐ کے حوالے سے شق میں تبدیلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی ہوئی ہے جس کی رپورٹ ایک ہفتے تک آئیگی ، اس سے پہلے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے، ختم نبوتؐ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے وزیر مملکت طلال چوہدری ، ڈاکٹرطارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار سردار محمد یوسف کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء)حکومت نے وفاقی دارلحکومت میں دھرنے پر موجود تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے کے شرکاء کو آخری وارننگ دے رہے ہیں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا،حکومت اور جڑواں شہریوں کے صبر سے نہ کھیلا جائے،خلاف قانون کوئی مطالبات نہیں مانیں گئے، ہم پرامن اور مذاکرات کے ذریعے معاملے کا حل چاہتے ہیں،دین کے نام پر جو لوگ آئے انہوں نے وعدہ خلافی کی اور پرامن احتجاج کی بجائے راستے روکے، حکومت نے ابھی تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، چند سو لوگوںکو ہٹانا مشکل نہیں تھا ، حکومت نے ختم نبوت ؐ کے حوالے سے شق میں تبدیلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی ہوئی ہے جس کی رپورٹ ایک ہفتے تک آئیگی ، اس سے پہلے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے، ختم نبوتؐ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار منگل کو وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری ،وفاقی وزیر مذہبی امور سردار سردار محمد یوسف اور وزیر مملکت کیڈ طارق فضل چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ سردار محمد یوسف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوتؐ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے ، ہم پہلے مسلمان اور پھر کچھ ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد آخری نبی ہیں ، ان کے بعد نبوت کا نبوت کا دعویٰ جھوٹا ہے ، حالیہ الیکشن اصلاحات میں جو سفارشات تیار کی گئیں اس میں حلف نامے میں جو غلطی ہوئی اس کا فوری نوٹس لیا گیا اور دوبارہ اجلاس بلا کر غلطی کو درست کیا اور حلف نامہ بحال کیا گیا ، یہ ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے ، پاکستان میں 97فیصد مسلمان ہیں ، 1973کے آئین میں ختم نبوتؐ کے حوالے سے چیزیں صاف کی گئی تھیں ، اگر اس مسئلے کیلئے ہزاروں وزارتیں بھی کرنی پڑیں تو خوشی سے کریں گے اس وقت ملک میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ، حکومت نے ذمہ داری نبھائی اور مسئلہ ختم کیا ۔

اس کے باوجود اگر کسی کو شک ہے تو حکومت سے بات کریں ، ہم حقائق ان کے سامنے رکھیں گے ، میری ملاقات علماء کے وفد سے ہوئی اور ہم نے ان کو مطمئن کیا ۔ ختم نبوتؐ کی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے ، ان کے وفد سے اچھی ملاقات ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ غلط افواہیں کچھ پھیلائی گئیں ، یہ چیزیں سیاست سے ہٹ کر ہیں ، ہر مذہب کے ماننے والے اس پر جان بھی دیتے ہیں 1973کے آئین میں ضمانت ہے کہ قرآن وسنت کے مخالف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔

ختم نبوت ؐ ہمارا ایمان ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں ، ایک ہفتے سے کچھ لوگ دھرنا دے رہے ہیں جس سے لوگوں کو پریشانیاں ہیں ، ملک میں ایک پیغام جا رہا ہے کہ حکومت کام نہیں کر رہی ، 97فیصد جو مسلمانوں کی اسمبلیوں کی نمائندگی ہے ، کمیٹی میں تمام جماعتوں کے نمائندے تھے ۔ اگر کسی کو ابہام ہے تو آئے اور حکومت سے بات کرے ، یہ بات مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے جائز نہیں کہ بے جا لوگوں کو تکلیف دی جائے ، میری ان حضرات سے گزارش ہے کہ دھرنا ختم کریں ۔

انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کر لیا جس کا حکومت نے نوٹس لیا تا کہ عوام اپنے روز مرہ کے کام کر سکیں ، ملک کے معمولات کو چلنے دیں یہ ہی میری گزارش ہے ۔ اس موقع پروزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پچھلے آٹھ دنوں سے دھرنا دیا جارہا ہے ، حکومت نے کوشش کی کہ مذاکرت کے ذریعے معاملہ حل ہو ، ایک نیک نیتی ہو اور حضورﷺ پر ایمان کی بات ہو تو معاملہ چند منٹوں میں حل کیا جا سکتا ہے ، میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ان سے ملے اور مطالبات کو سنا گیا ، بات اس لئے آگے نہ بڑھی کیونکہ کچھ چیزیں قانون کے خلاف تھیں ، ان کے 12مطالبات تھے ، لاہور اورر اسلام آباد تک کسی نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ، دین کے نام پر جو لوگ آئے انہوں نے وعدہ خلافی کی ، یہ معاملہ ہوا تھا کہ وہ کوئی سڑک بند نہیں کریں گے اور پر سکون انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے ، مذہب کے نام پر ان لوگوں نے وعدہ خلاف کی ، دین اسلام میں تو ایسی چیزوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، مریضوں ، طالبعلموں کا راستہ روکنے سے کیا پیغام دیا جارہا ہے ، حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ، چند سو لوگوںکو ہٹانا مشکل نہیں تھا ، بار بار بات چیت کے بعد بھی ایک مسئلہ تھا کہ وزیر قانون کو ہٹایا جائے وہ بھی بلاوجہ ، وزیر قانون کی اس وزارت کے حوالے سے بہت خدمات ہیں ، ان کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے ، اس غلطی میں کسی ایک فرد کی نشاندہی نہیں ہوئی ، اس لئے یہ مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔

حکومت نے اس پر کرنا مناسب نہیں سمجھا ، ایک کمیٹی بنائی جس نے معاملے کو دیکھا ، ہمیں ضرورت نہیں کہ کسی کو اپنا ایمان دکھائیں ،نوازشریف سمجھتے ہیں کہ ختم نبوتؐ ایما ن کا حصہ ہے ، کمیٹی ان افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے تاریخ میں بھی ایسی تحقیقات کی ہیں ، اس کی رپورٹ ایک ہفتے میں آنے کی امید ہے ، اس سے پہلے کوئی فیصلہ نہیں لیا جائے گا ، اس ابتدائی رپورٹ کے مطابق کوئی فرد واحداس غلطی میں دانستہ طور پر شامل نہیں تھا، سڑکیں روکنا اور مطالبات دینا غیر قانونی ہے ۔

ہم نے ان لوگوں کے راستے میں کوئی رکاورٹ نہیں کی ، کچھ لوگ گرفتار ہوئے ، شہریوں اور حکومت کے صبر سے نہ کھیلا جائے ، حکومت کسی بھی وقت ان کو ہٹا سکتی ہے ، ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ آکر بات کریں اور مسئلہ حل کریں ، حکومت اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہے تا کہ معاملہ مذاکرات سے حل ہوں ، اگر حل نہیں ہوتا تو راستہ چھوڑنا پڑے گا ،جنہوں نے دھرنوں کا رواج ڈالا آج ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں اس کے چند لوگ اپنے مفادات کیلئے کہیں بھی کوئی سڑک روک لیتے ہیں اور عوام کو مشکلات کا شکار کرتے ہیں ، ہم حکومت کی طرف سے ان افراد کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ، ان کے تمام قانونی مطالبات کو پورا کرے گا ، اگر حل نہیں نکلتا تو پھر راستہ اور نکالنا پڑے گا ، مذاکرات آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ہوتے ہیں ، ہم نے ٹریفک پلان دیا ہے پھر بھی عوام کو شدید مشکالت ہیں ، عوام نے صبر کیا اور صحافیوں نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ہے جس کے باعث وہ لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔

اس موقع پر ڈاکٹر فضل چوہدری نے کہا کہ ہمارا اولین فرض ہے کہ عوام کو سہولیات دیں ، ہمارا مذہب عوام کو آسانیاں پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے ، ہمارے پیارے نبی تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا ۔ طلال چوہدری نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کا جو پتا چلا ہے اس میں کسی فرد واحد کی غلطی کا نہیں کہا گیا ۔

رپورٹ ہفتے تک آجائے گی ، ہم یہ کام ذمہ داری سے کر رہے ہیں کہ اس میں کوئی غلطی نہ ہو ، پہلے دن سے کوشش کی گئی کہ مسائل پیدا نہ ہوں ، دھرنے والی جگہ دو شہروں کا ملاپ ہے ، عوام کو تکلیف پر ہم شرمندہ ہیں ، تمام غیر قانونی اقداموں پر کارروائی ہوتی ہے ،م دھرنے والی جماعت ایک سیاسی جماعت ہے جس نے دو انتخابات میں حصہ لیا ، اس کے پیچھے سیاسی مفادات بھی ہیں جو معاملہ ختم نبوتؐ کے حوالے سے تھا اس کی تصیح ہو چکی ہے ، ہم نے کافی آپشنز استعمال کر لئے ہیں اور ایک آدھ کوشش اور کریں گے کہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہو، ان لوگوں نے 12 مطالبات کئے ہیں ، صرف ایک مطالبہ ختم نبوتؐ کے قانون کیلئے رکھا گیا ہے اس میں مذہبی سے زیادہ سیاسی محرکات شامل ہیں ، بین الاقوامی میڈیا ایک ایٹمی قوت کے بارے میں کیا کچھ لکھ رہے ہیں وہ بھی دیکھتا ہے یہ کمیٹی الیکشن ریفارمز کیلئے بنی تھی ، مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ باقی جماعتیں بھی شامل تھیں اگر کسی کی بدنینی کا غصہ نظر آتا تو کارروائی کی جاتی جو نظر نہیں آئی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/11/2017 - 18:18:08

اپنی رائے کا اظہار کریں