پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے مگر دفاع سے غافل نہیں ، جنرل زبیر محمود حیات
تازہ ترین : 1
پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے مگر دفاع سے غافل نہیں ،  جنرل زبیر ..

پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے مگر دفاع سے غافل نہیں ، جنرل زبیر محمود حیات

پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کاخواہاں ہے ، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، وہ آگ کیساتھ کھیل رہا ہے، مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیشہ خیمہ ہے ،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر گذرتا ہے ،غیر ریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے، تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں ، ممالک کو روکنے اور گھیرنے کی پالیسی خطے کیلئے نقصان دہ ہے، سی پیک کے خلاف ہر سطح پر سازش کی جارہی ہے،افغان سرزمین پر دہشتگردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں،افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے، ،مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا افغانستان کی ذمہ داری ہے ،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور جلد حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں،پاکستان، بھارت کیساتھ مذاکرات چاہتا ہے، تاہم بھارت کو سنجیدگی دیکھانا ہو گی ،بھا، دنیا تیزی سے کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، ترقی کرتا جنوبی ایشیا و وسط ایشیا دنیا کا مستقبل ہے ،چین اور خطے کیلئے سی پیک سب سے بڑا گیم چینجر ہے ،غیر روایتی خطرات اور چیلنجز خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے ،بھارت اور امریکہ کے مابین لاجسٹکس سپورٹ معاہدے سے خطے کو مشکلات میں ڈال دیا،امریکہ، بھارت اور آسٹریلیا کا سہہ ملکی گٹھ جوڑ چین اور روس کو محدود کرنے کیلئے ہے،بھارت، تیزی سے تمام منفی اقدامات کر رہا ہے جو پاکستان کو محدود کریں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید اور سابق سفیر عبدالباسط کا بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

اسلام آ باد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کاخواہاں ہے ، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور وہ آگ کیساتھ کھیل رہا ہے، پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے مگر دفاع سے غافل نہیں ، مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیشہ خیمہ ہے ،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر گذرتا ہے ،غیر ریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے، تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں ، ممالک کو روکنے اور گھیرنے کی پالیسی خطے کے لئے نقصان دہ ہے، سی پیک کے خلاف ہر سطح پر سازش کی جارہی ہے،افغان سرزمین پر دہشتگردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں،افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے،سابق سفیر عبدالباسط نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات پر مبنی ہے ،جب تک امن و استحکام نہیں ہوتا ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،پاکستان کو افغان مسائل کا ذمہ دار قرار دینا زیادتی ہے،مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا افغانستان کی ذمہ داری ہے ،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور جلد حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں،پاکستان، بھارت کیساتھ مذاکرات چاہتا ہے، تاہم بھارت کو سنجیدگی دیکھانا ہو گی ،بھارت خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ دنیا تیزی سے کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، ترقی کرتا جنوبی ایشیا و وسط ایشیا دنیا کا مستقبل ہے ،چین اور خطے کیلئے سی پیک سب سے بڑا گیم چینجر ہے ،غیر روایتی خطرات اور چیلنجز خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے ،بھارت اور امریکہ کے مابین لاجسٹکس سپورٹ معاہدے سے خطے کو مشکلات میں ڈال دیا،امریکہ، بھارت اور آسٹریلیا کا سہہ ملکی گٹھ جوڑ چین اور روس کو محدود کرنے کیلئے ہے،بھارت، تیزی سے تمام منفی اقدامات کر رہا ہے جو پاکستان کو محدود کریں۔

منگل کو اسلام آ باد میں منعقد کی گئی جنوبی ایشیا کی علاقائی جہتیں اور تذویراتی خدشات پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں عدم استحکام خطے میں مسائل کا باعث ہے۔ جنرل زبیرافغانستان کے قدرتی وسائل کا استعمال نہیں ہوپارہا ہے۔

علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے افغانستان میں امن لانا ہوگا ۔ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔بھارت میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے۔کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم اور پاکستان کی طرف جنگی ہیجان واضح ہے۔ جنو بی ایشیا میں علاقائی جہتیں اور خدشات میں جغرافیائی، معاشی، تذویراتی اور سیاسی امور کو دیکھنا ہو گا۔افغانستان کا معاملہ جنوبی و وسط ایشیا کے مابین اہم خطہ ہے ۔

عالمی سطح پر طاقت کا حصول جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث ہے ۔خطے میں سلامتی کے ضامن ہونے کی تک و دو بھی تذویراتی اہمیت رکھتی ہے ۔بیرونی طاقتیں بڑے تذویراتی ڈیزائنز کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔مجموعی باہمی ترقی کیلئے ابھی بہت سے ممالک کو سمجھنا ہو گا۔جیو اکنامکس اور جیو پولیٹیکل مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔غیر ریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے ۔

ماحولیاتی تغیرات اور آبی مسائل، پیچیدہ چیلنجز کو مزید بڑھا رہے ہیں۔غیر روایتی سیکیورٹی خدشات اور خدشات ریاستوں نے اندر اور بین الریاستی تنازعات کا باعث ہیں۔مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے ۔کسی بھی قسم کا غلط اندازہ خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔کشمیر میں رہاستی جبر کرکے 90 ہزار سے زائد شہید کردیئے گئے ۔ پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں کی آنکھیں متاثر ہوئی ۔

ایل او سی پر 1200 سے زائد سیز فائر ک خلاف ورزیاں ہوئیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر گذرتا ہے ۔بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے ۔بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔بھارت خطے میں امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کررہاہے ۔ سی پیک کے خلاف ہر سطح پر سازش کی جارہی ہے۔بھارتی ایجنسی را نے 500 ملین سے سی پیک کے خلاف سیل بنایا ہے ۔

پاکستان تمام حالات کے تناظر میں کم از کم جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا ۔ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ مگر دفاع سے غافل نہیں ۔تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں ۔ ممالک کو روکنے اور گھیرنے کی پالیسی خطے کیلئے نقصان دہ ہے۔ دنیا کے مستقبل کی اقتصادی اور فوجی طاقتیں جنوبی ایشیا میں ہوں گی ۔جنوبی ایشیا میں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہی ہے ۔

سرجیکل سٹرایک جیسے شوشے اس کی ایک اہم مثال ہے ۔افغانستان، ایشیا کا گیٹ وے ہے ۔افغان عدم استحکام خطے کیلئے نقصان دہ ہے ۔افغانستان میں کمزور گورننس، فوج، حکومت اور معیشت اور دراڑ زدہ مفاہمتی عمل مسائل کا پیش خیمہ ہے ۔افغان سرزمین پر دہشتگردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں۔افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے ۔

بھارت سیکولر سے انتہا پسند ہندو ملک بن چکا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور پاکستان کیخلاف رویہ اس کی مثال ہے ۔ہر 20 کشمیریوں پر ایک فوجی ہے، 94 ہزار کشمیری شہید کیے جا چکی160 شہید اور 19 ہزار زخمی کیے جا سکی7،700 سے زائد کشمیریوں کی بینائی جا چکی۔پاکستان کے بھارتی فوج کے ہاتھوں 1000 شہری، 300 فوجی شہید ہوے ۔بھارت نے 1200 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں۔

بھارت، پاکستان کیخلاف ذیلی روایتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔یہ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں بدل سکتا ہے ۔بھارت سے بہتر تعلقات کا راستے صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔بھارت ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسندوں اور را کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کرا رہا ہے ۔بھارت آگ سے اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے ۔خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا تاہم بھارت ایساکر رہا ہے ۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں خون بہا رہا ہے ۔بھارت، پاکستان کا پانی روک رہا ہے ۔سی پیک کیخلاف بھارتی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔افغانستان مین قیام امن کیلئے کوشاں ہین ۔پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف لازوال قربانیاں دیکر کامیابیاں حاصل کیں۔بھارت، میزائل ڈیفنس، ٹیکنالوجی، جوہری ہتھیار اور روایتی ہتھیار تیزی سے بڑھا رہا ہے ۔پاکستان کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔

تذویراتی توازن اور روایتی ہتھیاروں میں مناسبت برقرار رکھی جائے گی ۔پاکستان مسئلہ کشمیر اور افغان مسائل کا حل چاہتا ہے ۔تمام امور پر یکساں پیشرفت چاہتے ہیں۔میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر اورسابق سفیر عبدالباسط کا خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات پر مبنی ہے جب تک امن و استحکام نہیں ہوتا ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔

افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہیںپاکستان کو افغان مسائل کا ذمہ دار قرار دینا زیادتی ہے ۔پاکستان اور افغانستان کو الزامات کے بجائے باہم ملکر آگے بڑھنا ہو گا۔مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا افغانستان کی ذمہ داری ہے ۔مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور جلد حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔پاکستان، بھارت کیساتھ مذاکرات چاہتا ہے، تاہم بھارت کو سنجیدگی دیکھانا ہو گی ۔

بھارت خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے ۔پاکستان خطے میں اسلحہ اور جوہری دوڑ کیخلاف ہے ۔عالمی برادری کو پاکستان کی پالیسی کو سراہنا چاہیے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ دنیا تیزی سے کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے ۔روس کا ابھرنا، چین کا تیزی سے قوت بننا، ترقی کرتا جنوبی ایشیا و وسط ایشیا دنیا کا مستقبل ہے ۔

چین اور خطے کیلئے سی پیک سب سے بڑا گیم چینجر ہے ۔پاکستان، علاقائی استحکام، ترقی اور ربط کا مرکز ہے ۔غیر روایتی خطرات اور چیلنجز خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے ۔سابر سیکیورٹی، ماحولیاتی تغیرات، آبی تنازعات اور بین السرحدی دہشتگردی بڑے خطرات ہیں۔ایک سڑک، ایک راستہ اکیسویں صدی کا بڑا منصوبہ اور پاکستان مرکز ہے ۔بھارت اور امریکہ کے مابین لاجسٹکس سپورٹ معاہدے سے خطے کو مشکلات میں ڈال دیا۔

امریکہ، بھارت اور آسٹریلیا کا سہہ ملکی گٹھ جوڑ چین اور روس کو محدود کرنے کیلئے ہے ۔بھارت، تیزی سے تمام منفی اقدامات کر رہا ہے جو پاکستان کو محدود کریں۔بھارت، پاکستان کوحدود کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔بھارت، مقبوضہ کشمیر کی تحریک اور امریکہ افغان مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے ۔خطے کے ممالک کو راہداریوں، راستوں، رابطوں، گیس پائپ لائنز اور ترقی کا شراکت دار بننا ہو گادنیا میں ایشیا ترقی کرتا اور تیزی سے ابھرتا خطہ ہے۔

جرمن ناظم الامور ڈاکٹر جینز جوکش نے کہاکہ خطے میں بہت سے اہم ممالک اور نظریات موجود ہیںاسلحہ کی دوڑ، جوہری پھیلا اور عدم استحکام خطے کیلئے خطرہ ہے ۔جرمنی دو عالمی جنگیں دیکھ چکا اور تیسری عالمی جنگ چھڑنے سے بچ گئی ۔سرد جنگ کے دور میں تنازعات کے جنگوں میں بدلنے کے خطرات منڈلاتے رہے ۔جرمنی ہمیشہ مثبت مذاکرات اور سفارتکاری پر زور دیتا ہے۔ جنوبی ایشیا کو مفاہمت اور مثبت مذاکرات کی اشد ضرورت ہے ۔ہمیں ہر صورت کشیدگی اور تنازعات سے بچتے ہوئے امن تلاش کرنا ہے۔ جرمنی، سارک، قلب ایشیا اور افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے ۔پاکستان کی جانب سے ہمسایہ ممالک کیساتھ دوستی اور بہتر تعلقات مفید پالیسی ہے خطے میں سیاسی و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/11/2017 - 17:13:40

اپنی رائے کا اظہار کریں