جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حدیبیہ کیس نہ سننے کا نقصان ہمیں ہی ہو گا۔ ن لیگ کا اعتراف
تازہ ترین : 1
جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حدیبیہ کیس نہ سننے کا نقصان ہمیں ہی ہو گا۔ ن لیگ ..

جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حدیبیہ کیس نہ سننے کا نقصان ہمیں ہی ہو گا۔ ن لیگ کا اعتراف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2017ء):نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی چوہدری غلام حسین نے کہا کہ زاہد حامد کا کہنا ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ جو بنچ سے الگ ہوئے ہیں ، اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ بات ہمارے ہی خلاف جائے گی۔ کیونکہ اگر جسٹس آصف سعید کھوسہ ہی اس بنچ کی سربراہی کرتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ ہمارے خلاف ہیں، انہوں نے پہلے بھی ہمارے خلاف ہی فیصلہ دیا تھا لیکن اب جو بھی بنچ ہو گا ، اس کی طرف سے فیصلہ ہمارے خلاف ہی آنا ہے اور ہم اس بنچ سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکیں گے کیونکہ نئے ججز سے متعلق کچھ کچھ بھی کہنے کا ہمارے پاس کوئی جواز نہیں رہے گا ۔

زاہد حامد نے کہا کہ میاں صاحب جسٹس کھوسہ کی بنچ سے علیحدگی ہنسنے یا خوش ہونے کا نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے۔ چوہدری غلام حسین نے بتایا کہ نواز شریف نے گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ کو ذمہ داری سونپ دی ہے کہ ایم این ایز کو قابو کریں، احسن اقبال کی سیالکوٹ میں جبکہ خواجہ سعد رفیق اور دوسروں کی لاہور میں ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی ترمیم کروانی ہے ۔

یہ چاہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن کوئی ترمیم لے کر آتی ہے تو ایم این ایز کو خرید کر اس ترمیم کی تجویز کو مسترد کروایا جائے۔ اگر ایم این ایز نہیں مانتے تو پھر انتظامیہ، پولیس اور دوسرے ذرائع سے ان پر دباﺅ ڈالیں۔ چوہدری غلام حسین نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ ناراض ایم این ایز کو منا کر لایا جائے۔

لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا ، اصل خبر یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کوئی بات نہیں کی ، اس اجلاس میں جانے پر بات کرنے کی ان کی ہمت ہی نہیں ہوئی ، کیونکہ وہ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں عدلیہ اور فوج کے خلاف غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہئیے ، لیکن ان کی چلی نہیں اور نواز شریف تو ویسے بھی محاذ آرائی کے لیے اعلان جنگ کر چکے ہیں۔ ان کا مزید کیا کہنا تھا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/11/2017 - 11:41:19

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں