لاہور کے بعد پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں بھی ڈولفن فورس کا آغاز
تازہ ترین : 1

لاہور کے بعد پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں بھی ڈولفن فورس کا آغاز

ڈولفن فورس جرائم پیشہ عناصر کیلئے خوف ودہشت کی علامت ہو گی، آئی جی پنجاب

لاہور۔23 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2017ء) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی ہدایت پر پنجاب کے پانچ بڑے اضلاع راولپنڈی ، ملتان ، بہاولپور ، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی پولیس لائنز میں ڈولفن اسکواڈز کو فعال کرنے کے سلسلے میں تقاریب کا انعقادکیا گیا جس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے وزراء ، اراکین ، ریجنل و ضلعی پولیس افسران و دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی اور ڈولفن اسکواڈز کے مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا، فیصل آباد میں 200جوانوں پر مشتمل ڈولفن اسکواڈ کا دستہ ، راولپنڈی میں 145 ،گوجرانوالہ میں129، ملتان میں 124 اور بہاولپور میں91 جوانوں پر مشتمل ڈولفن اسکواڈز کے دستوں کو فیلڈمیں اتارا گیا ہے جو جدید ہیوی بائیکس پرچوبیس گھنٹے شاہراؤں پر سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے پٹرولنگ کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے، لاہور میں ڈولفن فورس کے کامیاب تجربے کے بعد پنجاب کے پانچ شہروں میں ڈولفن فورس کا آغاز وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کے باعث عمل میں آیا ہے ،ڈولفن فورس کے آغاز کے سلسلے میں سینئر پولیس افسران کو بھجوائے گئے پیغام میں آئی جی پنجا ب نے امید ظاہرکی کہ ڈولفن فورس جرائم پیشہ عناصر کیلئے خوف اوردہشت کی علامت جبکہ شہریوں کیلئے فرینڈلی پولیس ثابت اوران کی مدد کیلئے ہمہ وقت دستیاب ہو گی،انہوں نے ہدایت کی کہ ڈولفن فورس کے جوان بہترین کارکردگی کے ساتھ اپنے رویوں سے عوام کے دل جیتیں اور عوام اور پولیس کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں موثرکردار ادا کریں ، ڈولفن فورس کا آغاز گذشتہ برس لاہور میںپاکستان کے برادراسلامی ملک ترکی کے پولیس ماہرین کے اشتراک سے کیا گیاجس کے بعد اب اس کا دائرہ کار پنجاب کے مزید 5 شہروں میںپھیلایا گیا ہے ،یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈولفن فورس نے لاہور میں اپنے قیام کے ڈیڑھ برس میں 150کریمنلز کو گرفتار کیا ، 95چوری شدہ گاڑیوں ،117موٹرسائیکلوں اور 56 گمشدہ بچوں کو بر آمد کیا جبکہ ڈولفن پٹرولنگ والے علاقوں میں جرائم کی شرح میں 30فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/10/2017 - 21:03:26

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں