سیاسی مقدمات کا نقصان عدالتوں کو ہوتا ہے‘سپریم کورٹ
تازہ ترین : 1

سیاسی مقدمات کا نقصان عدالتوں کو ہوتا ہے‘سپریم کورٹ

عمران خان اور رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کا معاملہ اپنی نوعیت کا منفرد اور سیاسی کیس ہے ،ْہم چاہتے تو جے آئی ٹی بنا سکتے تھے ،ْ چیف جسٹس معاملہ بھی جے آئی ٹی کو بھیج دیا جاتا تو آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ،ْوکیل حنیف عباسی عمران خان کی بددیانی تلاش کرنا دن میں چراغ لے کر سورج تلاش کرنے کے مترادف ہے ،ْ اکرم شیخ کے دلائل عدالت نے عمران خان کی درخواست پر حنیف عباسی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2017ء)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ سیاسی مقدمات کا نقصان عدالتوں کو ہوتا ہے ،ْپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کا معاملہ اپنی نوعیت کا منفرد اور سیاسی کیس ہے ،ْہم چاہتے تو اس پر جے آئی ٹی بنا سکتے تھے۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ عمران خان نے کیس میں کوئی یوٹرن نہیں لیا، موقف بدلنے سے متعلق جو تاثر دیا گیا وہ غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے اٹھائے گئے نئے سوالات پر جواب اور متعلقہ دستاویزات جمع کروائے جن کی نشاندہی جسٹس فیصل عرب نے بھی کی تھی۔نعیم بخاری نے کہا کہ بیان حلفی دیتے وقت عمران خان کے پاس دستاویزات نہیں تھیں تاہم نعیم بخاری کی جانب سے دلائل دینے پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد مزید دلائل نہیں دئیے جا سکتے اور نہ ہی پہلے سے دیئے گئے دلائل میں ترمیم یا تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ کیس مکمل نہیں ہوا ،ْدستاویزات کیلئے اور عدالتی سوالات کا جواب دینے کا پورا موقع دیا، یہ معاملہ ہے کہ روزانہ کوئی نئی چیز سامنے آ جاتی ہے جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ میری نظر میں عمران خان کی نئی درخواست ہی توہین عدالت ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں ،ْاگر اضافی دستاویزات چاہیں تو ہم نہیں منگوا سکتی جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اضافی دستاویزات منگوائی جا سکتی ہیں لیکن خلاء کو پر نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس درخواست کے ذریعے انہوں نے جو خلاء تھا اس کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تو موقف تبدیل کرنے کا نہیں کہا گیا جبکہ ہم آپکی درخواست سے بھی آگے بڑھ کر سماعت کر رہے ہیں اور عمران خان سے ایک ایک پائی کا حساب لے چکے ہیں جیسا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر کسی کو مکمل موقع دے رہے ہیں۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان کی بددیانی تلاش کرنا دن میں چراغ لے کر سورج تلاش کرنے کے مترادف ہے کیونکہ عمران خان کی سات مختلف درخواستوں میں سات مختلف موقف ہیں جبکہ موقف کی تبدیلی کے حوالے سے پاناما کا فیصلہ لاء آف دی لینڈ بن گیا ہے، جس پر جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ اس کیس کو پاناما سے کیوں جوڑ رہے ہیں ،ْپاناما کیس میں ججز نے سوالات پوچھے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نا ہی دستاویزات دی گئیں اور اسی بنیاد پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں نا صرف پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے بلکہ متعلقہ دستاویزات بھی فراہم کی گئیں، دستاویزات مصدقہ ہے یا نہیں وہ الگ معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لیے آسان تھا کہ جے آئی ٹی بنا دیتے لیکن ہمارا مقصد تھا کہ تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کیا جائے جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ پاناما اور یہ کیس ایک ساتھ آئے تھے اگر یہ معاملہ بھی جے آئی ٹی کو بھیج دیا جاتا تو آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا،عدالت نے عمران خان کی درخواست پر حنیف عباسی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 24 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/10/2017 - 20:30:08

اپنی رائے کا اظہار کریں