نوازشریف پارٹی صدرہوں یا نہیں، الیکشن ان کی تصویر پرجیتا جائےگا،پرویزرشید
تازہ ترین : 1
نوازشریف پارٹی صدرہوں یا نہیں، الیکشن ان کی تصویر پرجیتا جائےگا،پرویزرشید

نوازشریف پارٹی صدرہوں یا نہیں، الیکشن ان کی تصویر پرجیتا جائےگا،پرویزرشید

بےرحم غیرمنصفانہ بل منظورکرکے سینیٹ روایات کی خلاف ورزی کی گئی،یہ سب لوگ کیسے اورکس کیلئے یرغمال ہیں،فوجی عدالتوں کےقیام کی طرح آج بھی بوجھل دل ہے،نوازشریف کوالیکشن سے6 ماہ قبل نااہل کیا گیا۔سینیٹ میں اظہارخیال

اسلام آباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23 اکتوبر2017ء ): مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ نوازشریف پارٹی صدرہوں یا نہیں، الیکشن ان کی تصویر پرجیتا جائےگا،سینیٹ میں آج پھربےرحم اکثریت سے غیرمنصفانہ بل منظورکرایا گیا،نوازشریف کوالیکشن سے6 ماہ قبل نااہل کیا گیا،ج یہ سب لوگ کیسے اورکس کیلئے یرغمال بنے ہوئے ہیں، فوجی عدالتوں کےقیام کی طرح آج بھی بوجھل دل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے سینیٹ اجلاس میں نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے پرپابندی لگانے والے بل کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل پیش کرنیوالے کئی لوگوں نے جمہوریت کیلیےجدوجہد کی۔آج ایسا ہی بوجھل دل ہےجیسا فوجی عدالتوں کے قیام کےوقت تھا۔آج بےرحم اکثریت سے غیر منصفانہ بل منظور کرایا گیا۔ آج یہ سب لوگ کیسے یرغمال بنے، کس کے یرغمال بنے۔

انہوں نے کہا کہ بھٹوکو انتخاب سے پہلے احتساب کے نام پر پھانسی دی گئی۔ اسی طرح نواز شریف کوالیکشن سے6 ماہ قبل نااہل قرار دیا گیا۔ پرویز رشید نے کہا کہ نوازشریف پارٹی صدرہو یانہیں ان کی تصویر پر الیکشن جیتا جائے گا۔ سینیٹرپرویز رشید نے کہاکہ ایک بار پھرآمریت جیت گئی اور جمہوریت ہارگئی ہے۔نوازشریف کو الیکشن سے 6ماہ قبل دوناہل کرنے کابل منظورکروایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بل منظورکرکے سینیٹ کی روایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ واضح رہے سینیٹ نے نااہل شخص کے سیاسی جماعت کے صدربننے کے خلاف بل منظورکرلیا،بل کے حق میں 49اور مخالفت میں 18ووٹ ڈالے گئے،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کی۔ جبکہ اس سے دو ماہ قبل سینیٹ میں نااہل شخص کے سیاسی جماعت کے صدربننے کیلئے بل منظورکیا گیا تھا۔ جس کے باعث نوازشریف کودوبارہ مسلم لیگ ن نے پارٹی صدرمنتخب کرلیا تھا۔ لیکن اب ایک بار پھر سیینٹ میں نااہل شخص کے پارٹی صدر کی مخالفت میں بل منظورکرلیا گیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 23/10/2017 - 19:42:30

اپنی رائے کا اظہار کریں