ْ چیئرمین واپڈا اور ممبران کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواست پر ..
تازہ ترین : 1
ْ چیئرمین واپڈا اور ممبران کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر ..

ْ چیئرمین واپڈا اور ممبران کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور۔23 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2017ء)لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین واپڈا اور ممبران کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ساٹھ برسوں میں تئیس چئیرمین تبدیل ہوئے مگر آج تک تعیناتیوں کا طریقہ کار نہیں بنایا جاسکا،عدالتی فیصلے میں چئیرمین واپڈا اور ممبران کی تعیناتیوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل سید مجیب الحسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے چئیرمین واپڈا،، ممبر فنانس اور ممبر واٹرکو قوانین اور میرٹ کے برعکس تعینات کیا۔انہوں نے کہا کہ چئیرمین واپڈا نے نیلم جہلم پراجیکٹ میں استعمال ہونے والی اربوں روپے کی قابل استعمال ٹنل بورنگ مشین کو فرسودہ قرار دے کر کھڑا کر رکھا ہے جس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تعیناتیوں سے متعلق طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ دوران سماعت چئیرمین واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چئیرمین واپڈا نے ایک سال کے عرصے میں تیز رفتاری سے درجنوں منصوبے مکمل کئے،جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چئیرمین واپڈا کے عہدے کی معیاد میں چار برس باقی ہیں، عدالت نئے چئیرمین اور ممبران کی تعیناتیوں سے متعلق طریقہ کار وضع کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کر دے گی،عدالتی گائیڈ لائن کی روشنی میں شفاف طریقہ کار کے تحت چئیرمین اور ممبران کی تعیناتیوں کے عمل کوچھ ماہ کے عرصہ میں مکمل کیا جائے،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ موجودہ چئیرمین واپڈا بھی نئی تعیناتی کے لئے اپلائی کر سکیں گے،عدالت اس بات سے آگاہ ہے کہ موجودہ چیئرمین کی تعیناتی کے لئے کابینہ سے منظوری کے لئے ایک ہی نام بھجوایا گیا، چئیرمین واپڈا جیسے بڑے عہدوں پر طریقہ کار موجود نہ ہونے کے باعث تعیناتیاں کر دی گئیں اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے 1958کے پرانے قانون کو تبدیل کرنا گوارا نہیں کیا گیا،عدالت نے درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/10/2017 - 20:39:07

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں