چیئرمین نیب فوری طور پر فائلوں میں دبے ہوئے کرپشن کے ڈیڑھ سو میگا سکینڈلز کھولیں ..
تازہ ترین : 1
چیئرمین نیب فوری طور پر فائلوں میں دبے ہوئے کرپشن کے ڈیڑھ سو میگا سکینڈلز ..

چیئرمین نیب فوری طور پر فائلوں میں دبے ہوئے کرپشن کے ڈیڑھ سو میگا سکینڈلز کھولیں ،مگر مچھوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ‘سراج الحق

ایک طرف ملک قرضوں کے جال میں پھنسا ہواہے ، عوام غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ، دوسری طرف قومی خزانہ لوٹنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ‘امیر جماعت اسلامی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2017ء) ا میر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے احتساب کے بعد موجودہ حکومت کا فرض بنتاتھاکہ وہ پانامہ لیکس کے دیگر کرداروں کے احتساب پر زور دیتی مگر حکومت کی طرف سے خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت احتساب کے معاملے کو خود بھی آگے نہیں بڑھانا چاہتی ہے ، چیئرمین نیب فوری طور پر فائلوں میں دبے ہوئے کرپشن کے ڈیڑھ سو میگا سکینڈلز کھولیں اور کرپشن کے مگر مچھوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم ان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کریں ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری جنر ل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، نائب امراء اور ڈپٹی سیکرٹریز جنرل بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتساب سب کا تحریک کو بھر پورطریقے سے آگے بڑھایا جائے گا اور جب تک پانامہ لیکس کے دیگر کرداروں ، بنکوں سے اربوں کھربوں روپے قرضے لے کر ہڑپ کرنے والوں اور حکومتی عہدوں سے فائدہ اٹھا کر قومی دولت لوٹنے والوں کا احتساب نہیں کیا جاتا اور پوری دولت واپس نہیں آتی یہ تحریک جاری رہے گی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ایک طرف ملک قرضوں کے جال میں پھنسا ہواہے اور عوام غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف قومی خزانہ لوٹنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے احتساب کے بعد حکومت کا فرض تھاکہ وہ سب کے احتساب کے لیے آواز اٹھاتی مگر حکمرانوں کے رویے سے عیاں ہے کہ وہ خود احتساب کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔

دریں اثنا اپنے ایک بیان میں سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستانی حکومت امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے کو پوری قوت سے اٴْٹھائے۔ پاکستان نے کینیڈی و امریکی جوڑے کو3بچوں سمیت کامیاب آپریشن کرکے رہائی دلوائی ہے ، اس سلسلے میں امریکہ کا محض پاکستان کے لئے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کافی نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعتا خیر سگالی چاہتے ہیں تو ڈو مور کا سلسلہ ختم کرکے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کریں جو بے گناہ اور بے قصور ہے اور15برسوں سے امریکی قید تنہائی میں ہے۔ جب تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی قید میں رہیں گی ، امریکہ پاکستانی عوام کے دل نہیں جیت سکتا۔ امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستانی قوم کے دل اپنی بے گناہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا ہے کہ سننے میں آیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ٹلر سن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو لینے کے لئے آرہے ہیں۔ امریکہ اپنے بجٹ کا ملین ڈالرز حصہ پاکستانی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے، در حقیقت امریکہ پاکستانی قوم کے جذبات سمجھے بغیر اپنے ٹیکس دہندگان کا یہ خطیر پیسہ ضائع کررہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرکے ہی پاکستانی قوم کے دل جیتے جاسکتے ہیں اور پاک امریکہ تعلقات کی نئی اور خوشگوار ابتدا ہوسکتی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے بیان کے آخر میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کے بغیر امریکہ کی پاکستانی قوم سے خیر سگالی کی توقع رکھنا عبث ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/10/2017 - 20:13:51

اپنی رائے کا اظہار کریں