نیازی سروسز کی دستاویزات میں عدم مطابقت ہے، سپریم کورٹ
تازہ ترین : 1
نیازی سروسز کی دستاویزات میں عدم مطابقت ہے، سپریم کورٹ

نیازی سروسز کی دستاویزات میں عدم مطابقت ہے، سپریم کورٹ

دیکھنا ہے کہ کس قسم کی تحقیقات ہوسکتی ہیں‘ تمام دستاویز کا موازنہ کریں گے‘ ہم نے کوشش کی کہ معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھیں‘ تاثر ہے کہ اس مقدمے کو پانامہ کی طرح نہیں سنا گیا‘ مقدمے سے بڑھ کر عمران خان کا حساب لیا ہے‘ سیاسی مقدمات میں نقصان عدالت کو ہوتا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس سوالات کے جواب نہ آنے پر جے آئی ٹی بنانی پڑی‘ دیکھنا ہے کہ یہ پانامہ فیصلے میں شواہد بارے کیا کہا گیا‘ جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں وہ غیر مصدقہ ہیں‘ آپ پانامہ فیصلے کو پڑھیں ہم بھی فیصلے کو دیکھیں گے‘جسٹس عمر عطاء بندیال کے ریمارکس

سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2017ء)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نیازی سروسز کی دستاویزات میں عدم مطابقت ہے‘ دیکھنا ہے کہ کس قسم کی تحقیقات ہوسکتی ہیں‘ تمام دستاویز کا موازنہ کریں گے‘ ہم نے کوشش کی کہ معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھیں‘ تاثر ہے کہ اس مقدمے کو پانامہ کی طرح نہیں سنا گیا‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سوالات کے جواب نہ آنے پر جے آئی ٹی بنانی پڑی‘ دیکھنا ہے کہ یہ پانامہ فیصلے میں شواہد کے بارے میں کیا کہا گیا‘ آپ نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ غیر مصدقہ ہیں‘ آپ پانامہ فیصلے کو پڑھیں ہم بھی فیصلے کو دیکھیں گے‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مقدمے سے بڑھ کر عمران خان کا حساب لیا ہے‘ سیاسی مقدمات میں نقصان عدالت کو ہوتا ہے۔

پیر کو عمران خان نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کے موقف میں تبدیلی پر جواب جمع کرادیا ہے اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالتی کارروائی سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کو صفائی کا موقع دے رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سچ کھل کر سامنے آئے۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ تاثر ہے کہ عمران خان نے سماعت میں یوٹرن لیا جو بالکل غلط ہے بیان حلفی دیتے ہوئے عمران خان کے پاس دستاویزات نہیں تھیں اس پر وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ فریقین کے لئے مقدمے کی سماعت مکمل ہوچکی ہے عدالت سے استدعا کی تھی کہ فیصلہ محفوظ کرے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد دستاویزات جمع نہیں کرائی جاسکتیں۔ نعیم بخاری وکل کے خلا کو پر کررہے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اکرم شیخ صاحب آپ اپنی باری پر اعتراض کرسکتے ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت نیازی سروسز کے اکائونٹ میں کتنی رقم تھی وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ اگست 2012 میں نیازی سروسز کے اکائونٹ میں 471 پائونڈ تھے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ پانامہ فیصلے میں شواہد کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔

آپ نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ غیر مصدقہ ہیں اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت دستاویزات کی تصدیق کراسکتی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ پانامہ فیصلے کو پڑھیں ہم بھی فیصلے کو دیکھیں گے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنتا برے سے برے حالات بھی ہوں تو مزید انکوائری ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ تحقیقات کس قسم کی ہوسکتی ہیں۔

نیازی سروسز کی دستاویزات میں عدم مطابقت ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پاناہ کیس میں بھی ایسے ہی سوالات تھے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دینا چاہتے ہیں ان میں تضاد ہے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات میں کہیں تضاد نہیں آرہا۔ عدالت نے نعیم بخاری کو دستاویزات آج ہی جمع کرانے کی اجازت دیدی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تمام دستاویزات کا موازنہ کریں گے۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کا بیان حلفی یاداشت پر مبنی تھا۔ تمام رقوم قانونی طریقے سے بذریعہ بنک منتقل ہوئی۔ ایک لاکھ پائونڈ میں عمران خان کو چالیس ہزار پائونڈ ملی۔ این ایس ایل اکائونٹ ے جولائی 2007 میں 20ہزار یورو عمران خان کے اکائونٹ میں آئے۔ رقم عمران خان نے جنوری 2012 میں کیش کرائی۔ 2008 کے انتخابات میں عمران خان نے حصہ نہیں لیا۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ کیا عمران خان کے علم میں تھا کہ ان کے اکائونٹس میں رقم آئی اس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ان مقدمات سے میرا بلڈ پریشر 160 سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ روزانہ ورزش کررہا ہوں عدالت اجازت دے تو اب آرام کروں گا۔ ٹی وی پر اکرم شیخ سے متعلق غلط بات کہنے پر معافی مانگتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اکرم شیخ صاحب نے اچھے انداز میں دلائل دیئے کنڈکٹ کی تعریف کرتا ہوں۔

دیکھنا چاہتے ہیں کہیں بددیانتی کا پہلو نظر آتا ہے یا نہیں ۔ ہم نے کوشش کی کہ معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھیں مقدمے سے بڑھ کر عمران خان کا حساب لیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حساب دے پائے یا نہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ سیاسی سوالات سے گریز کیا جائے۔ سیاسی مقدمات میں نقصان عدالت کا ہوتا ہے۔ جب تک ہمارا اطمینان نہ ہو انصاف کیسے کرسکتے ہیں۔

جب معاملہ کرپشن اور بے ایمانی کا ہوا تب مقدمات کو سنا تاثر ہے کہ اس مقدمے کو پانامہ کی طرح نہیں سنا گیا پانامہ کے ساتھ مقدمے کو سننے کا وقت گزر گیا اب ہم چار دن صرف آپ کو سنیں گے تاکہ آپ شاکی نہ ہوں۔ آپ کی شکایت ہمیں منظور نہیں جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ سوالات کے جواب نہ آنے پر جے آئی ٹی بنانا پڑی وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ غلط موقف اور غلط دستاویزات کے قانونی نتائج ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب جو دستاویزات آئی ہیں وہ ہمارے سوالات پر دی گئی ہیں وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کا ایک موقف دوسرے سے نہیں ملتا چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دستاویزات میں تضاد کی نشاندہی کریں اکرم شیخ نے کہا کہ دستاویز میں تضاد پر الگ درخواست دوں گا۔ عمران خان خود اپنی دستاویزات کی نفی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں عمران خان نے جھوٹ بولا یا نہیں عدالت نے اکرم شیخ کو ایک ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ (کل) منگل کو جہانگیر ترین نااہلی درخواست کیس ماعت کرے گا کیس کی مزید سماعت منگل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ (ن غ)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/10/2017 - 15:34:40

اپنی رائے کا اظہار کریں