چکری روڈ پر نیو کیمپس کی تعمیر کا آغازآئندہ ماہ نومبر میں کیا جائے گا، وائس چانسلر ..
تازہ ترین : 1

چکری روڈ پر نیو کیمپس کی تعمیر کا آغازآئندہ ماہ نومبر میں کیا جائے گا، وائس چانسلر پروفیسرڈا کٹر ثمینہ امین قادر

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2017ء) فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسرڈا کٹر ثمینہ امین قادر نے کہا ہے کہ 96کروڑ 10لاکھ روپے کی خطیر لاگت سے چکری روڈ پر نیو کیمپس کی تعمیر کا آغازآئندہ ماہ نومبر کے آخر میں کیا جائے گا جو کہ ڈیڑھ سال میںمکمل ہوگا، ضیاء الحق کے دور میں بنائی گئی فاطمہ جناح یونیورسٹی خستہ حال صورت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کی تعمیر و مرمت کے لئے 60ملین روپے کی رقم درکار ہے، یونیورسٹی کے سالانہ بجٹ میں 44فیصد ایچ ای سی کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے جبکہ 56فیصد یونیورسٹی کے ریونیو سے حاصل ہوتا ہے، ایچ ای سی کو چاہیے کہ پہلے 4 سالوںمیں ماسٹرز پروگرام ختم کرنے کی گنجائش پیدا کر ے اوراس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے 2018کی بجائے 2020میں اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔

حصول علم کے لئے ملک بھر کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان،کشمیر اور فاٹا سے آنے والی طالبات کو تعلیمی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ہوسٹلز کا بہترین ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ تربیت یافتہ استاتذہ کی محنت اور لگن کی وجہ سے یونیورسٹی کے نتائج 99فیصد ہیں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسرڈا کٹر ثمینہ امین قادر نے "اے پی پی"کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کا نیو کیمپس کی تعمیرکا کام اگلے مہینی(نومبر) میں شروع کر دیا جائے گا جس پر 96 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چکری روڈ پر واقع 300ایکڑ اراضی پر 02بلاکس اور 02 ہاسٹل تعمیر کیے جائیں گے جہاں پر 08شعبے قائم کئے جائیں گے جن میں 06سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور02 لاء اینڈ کامرس کے شعبے شامل ہیں اوریہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ 2030ء تک 30ہزار طالبات کی گنجائش بن سکے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ نیو کیمپس میں نرسنگ کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ خواتین کے لئے اس شعبے میں ترقی کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاطمہ جناح یونیورسٹی کی عمارت ضیاء الحق کے دور میں بنائی گئی تھی جس کی تعمیر ومرمت نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ خستہ حالی کا شکار ہے اور برسات کے موسم میں چھتیں ٹپکنے لگتی ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی مدد کے تحت 2 لاکھ روپے خرچ کر کے چھتوں کے مرمت کروائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں تقریبا05 ہزار طالبات زیر تعلیم ہیں اور ہم پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے لئے سپیشل فنڈز میں سے رقم دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں ہر سال سینکڑوں طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ اس سال کے پہلے سمسٹر میں 15سو طالبات کو داخلے دیئے گئے ہیں جن میں 1000کے قریب ایم ایڈ، انڈر گریجویٹ، 400 ماسٹرز اور ایم فل/ پی ایچ ڈی کی طالبات شامل ہیں۔
وقت اشاعت : 22/10/2017 - 19:41:22

اپنی رائے کا اظہار کریں