کراچی میں خواتین پر چاقوسے حملے کے ملزم کی عدم گرفتاری پولیس، رینجرز اور قانون ..
تازہ ترین : 1

کراچی میں خواتین پر چاقوسے حملے کے ملزم کی عدم گرفتاری پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان ہے،سندھ ہیومن رائٹس کمیشن

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2017ء) سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی رہنما میڈم شمشاد کنول نے کراچی میں ڈیڑھ ماہ سے خواتین پر چھریوں سے وار کرنے والے ملزمان کی عدم گرفتاری پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں پولیس، انتظامیہ اور حکومتی مشینری چھریوں کے ذریعے وار کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

جس کے سبب شہریوں میں اور خاص طورپر خواتین میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں خواتین پر چاقوسے حملے کے ملزم کی عدم گرفتاری پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ چاقو مار کے پے درپے خواتین پر حملے سے خواتین میں خوف وہراس پھیل رہا ہے جبکہ خواتین خود کو غیر محفوظ تصو رکررہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عوام کو جان ومال،عزت وآبرو کا تحفظ فراہم کرنا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے دیگر کاموں میں اس قدر مشغول ہیں کہ وہ بنیادی کاموں پر توجہ بھی دینے کو تیا رنہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس اور چھریوں کے وار کرنے والے ملزمان کا نہ تو کوئی سراغ لگاسکی ہے اور نہ ہی ان کی گرفتاری کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے۔

ہر آنے والے دن کے ساتھ اس طرح کی وارداتوں میں نہ صرف اضافہ ہورہا ہے بلکہ عام لوگ اور خواتین اس صورتحال سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ گھروں سے بھی نکلنے کی ہمت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہاکہ کراچی جیسے شہر میں یہ صورتحال ہوتو سندھ کے پسماندہ علاقوں کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود مرکزی ملزم کی گرفتاری سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قانون کی رٹ چیلنج کی جارہی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/10/2017 - 18:30:59

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں