عوام ایک دوسرے سے مربوط رہ کر اس انتہائی نازک صورتحال کا مقابلہ کریں‘جماعت اسلامی
تازہ ترین : 1

عوام ایک دوسرے سے مربوط رہ کر اس انتہائی نازک صورتحال کا مقابلہ کریں‘جماعت اسلامی

اسلامی تعلیمات میں کسی بے گناہ کو موردِ الزام ٹھہرانے ،اٴْس کو ذہنی یاجسمانی تشدد کا نشانہ بنانے یا ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کسی ٹھوس ثبوت کے بغیرکسی کو مجرم ٹھہرانا ، اس کو سرعام رٴْسوا کرکے قتل کرنے یا جلانے کی کوشش کرنا بہت بڑا ظلم ہے

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2017ء)مقبوضہ کشمیر میںجماعت اسلامی نے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے پے در پے واقعات پیش آنے کے لیے قابض انتظامیہ اور بھارت پولیس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مربوط رہ کر اس انتہائی نازک صورتحال کا مقابلہ کریں اور کوئی ایسی کارروائی نہ ہونے دیں جو کشمیریوں کے لیے باعث ندامت ہو۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ اسلامی تعلیمات میں کسی بے گناہ کو موردِ الزام ٹھہرانے ،اٴْس کو ذہنی یاجسمانی تشدد کا نشانہ بنانے یا ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیرکسی کو مجرم ٹھہرانا ، اس کو سرعام رٴْسوا کرکے قتل کرنے یا جلانے کی کوشش کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح کی کارروائیوں پر اٴْکسانے والے اصل مجرم ہیں اوریہی لوگ اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ دریں اثناء جمعیت ہمدانیہ نے چوٹیاں کاٹنے کی تشویشناک لہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ اس سازش کا پردہ فاش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ جمعیت کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے سرینگر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحدہ ہوکر ایسے عناصر کو بے نقاب کریں جو اس مذموم سازش کے پیچھے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ان شرمناک اور ہتک آمیز حرکتوں سے اہل کشمیر کے دل چھلنی ہورہے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/10/2017 - 14:20:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں