امریکہ ،ْ9 سال کے 42 فیصد بچے موبائل فونز کے مالک ہیں ،ْ تحقیقاتی رپورٹ
تازہ ترین : 1

امریکہ ،ْ9 سال کے 42 فیصد بچے موبائل فونز کے مالک ہیں ،ْ تحقیقاتی رپورٹ

تک 8 سال یا اس سے بڑی عمر کے بچے یومیہ 15 منٹ تک اسمارٹ موبائل یا دیگر ڈیوائسز استعمال کرتے تھے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2017ء)تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف امریکا کے ہی 8 سال یا اس سے تھوڑی بڑی عمر کے 42 فیصد بچوں کے پاس اپنے اسمارٹ موبائل اور ڈیوائسز ہیں۔غیر سرکاری تنظیم کامن سینس میڈیا آرگنائیزیشن کی جانب سے کیے جانے والے تازہ سروے سے پتہ چلا کہ امریکا بھر میں کم عمر بچوں میں 2013 کے بعد اسمارٹ موبائل یا دیگر اسمارٹ آلات استعمال کرنے میں دگنا اضافہ ہوا۔

سروے کے مطابق 2013 تک 8 سال یا اس سے بڑی عمر کے بچے یومیہ 15 منٹ تک اسمارٹ موبائل یا دیگر ڈیوائسز استعمال کرتے تھے تاہم اب وہ یومیہ 48 منٹ تک اسمارٹ ڈیوائسز استعمال کر رہے ہیں۔سروے سے پتہ چلا کہ کم عمر بچوں کی جانب سے اسمارٹ موبائل یا دیگر ڈیوائسز خریدنے میں بھی 7 فیصد اضافہ ہوا ہے ،ْاس وقت 42 فیصد بچے اسمارٹ ڈیوائسز کے مالک ہیں۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ عام طور پر امریکی بچے یومیہ 30 منٹ تک کتابیں پڑھتے ہیں جبکہ وہ 48 منٹ تک موبائل ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 8 سال یا اس سے بڑی عمر کے 98 فیصد بچے گھر میں موبائل فون سمیت ٹی وی یا دیگر ڈیوائسز کی اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔سروے میں بچوں کی جانب سے اسمارٹ موبائل یا ڈیوائسز کے نقصانات یا فوائد پر روشنی نہیں ڈالی گئی، تاہم کئی ماہرین نے ان اعداد و شمار پر کوئی حیرانی ظاہر نہیں۔ماہرین کے مطابق جدید دور میں گھر سے لے کر اسکول تک، ایئرپورٹ سے لے کر ہوٹل تک اور یہاں تک کھانے کی ٹیبل تک بھی بچے اور جوان اسمارٹ ڈیوائسز کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں والدین اسمارٹ موبائل یا ڈیوائسز استعمال کرنے والے اپنے بچوں کی نگرانی بھی کرتے ہیںجبکہ زیادہ تربچے ان ڈیوائسز پر گیمز کھیلتے رہتے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل متعدد بار ماہرین یہ کہہ چکے ہیں کہ کم عمر بچوں کی جانب سے زیادہ وقت تک اسمارٹ ڈیوائسز استعمال کرنا ان کی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔رواں برس مئی میں امریکا میں ہی ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر کوئی بچہ دن بھر میں آدھا گھنٹہ اسمارٹ فون پر گزارتا ہے تو اس عادت سے دیر سے بولنے کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس سے قبل اپریل 2016 میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 7 سے 16 برس کے جو بچے یومیہ 4 گھنٹوں تک اسمارٹ موبائل یا دیگر ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں تو ان میں عارضی طور پر بھینگے پن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/10/2017 - 14:20:43

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں