غلط تا ثر دیا جارہا ہے کہ نوازشریف اداروں محاذآرائی چاہتے ہیں، اداروں کے ساتھ ..
تازہ ترین : 1
غلط تا ثر دیا جارہا ہے کہ نوازشریف اداروں محاذآرائی چاہتے ہیں، اداروں ..

غلط تا ثر دیا جارہا ہے کہ نوازشریف اداروں محاذآرائی چاہتے ہیں، اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ کرنے کی پالیسی میاں نوازشریف کی ہی ہے،شہبازشریف کبھی تصوربھی نہیں کرسکتے کہ وہ نوازشریف کی قیادت کیخلاف کوئی قدم اٹھائیں،خدا نے میاں نوازشریف کو ایسی عزت سے نوازا ہے کہ اس وقت ملک میں اپوزیشن بھی وہ ہیں

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نجی ٹی وی سے گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2017ء)وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ غلط تا ثر دیا جارہا ہے کہ نوازشریف اداروں محاذآرائی چاہتے ہیں، اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ کرنے کی پالیسی میاں نوازشریف کی ہی ہے،شہبازشریف کبھی تصوربھی نہیں کرسکتے کہ وہ نوازشریف کی قیادت کیخلاف کوئی قدم اٹھائیں،خدا نے میاں نوازشریف کو ایسی عزت سے نوازا ہے کہ اس وقت ملک میں اپوزیشن بھی وہ ہیں ،حکومت بھی وہ ہیں اور پارٹی کے صدر بھی وہی ہیں ،نوازشریف جوفیصلہ کریں گے ہم ساتھ دیں گے،ریاض پیرزادہ نے جوبات کی وہ ان کی اپنی رائے ہے۔

وہ جمعہ کو نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف قطعاً اداروں سے محاذ آرائی نہیں چاہتے ،غلط تا ثر دیا جارہا ہے کہ نوازشریف محاذآرائی چاہتے ہیں،قومی اداروں کیساتھ محاذآرائی نہ کرنے کی پالیسی نوازشریف کی ہے،شہبازشریف کبھی تصوربھی نہیں کرسکتے کہ وہ نوازشریف کی قیادت کیخلاف کوئی قدم اٹھائیں ان کے پارٹی ٹیک اوور کرنے کی جو باتیں کی گئیں یقینا ان سے میاں شہباز شریف صاحب کو دلی دکھ ہوا ہوگا ۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف بات کی تومجھے بھی پارٹی قیادت نے خاموش کرادیا گیا تھا،محاذآرائی تب ہوتی جب عدالتوں میں پیش نہ ہوتے اورفیصلے پرعمل نہ کرتے،نوازشریف جوفیصلہ کریں گے ہم ساتھ دیں گے،نوازشریف کے فیصلے میں شہبازشریف اورحمزہ شہبازبھی انکے ساتھ ہونگے، پارٹی نوازشریف کی لیڈرشپ پرمتحد ہے،گزشتہساڑھے چارسال اداروں کیساتھ محاذآرائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاض پیرزادہ نے جوبات کی وہ ان کی اپنی رائے ہے،خدا نے میاں نوازشریف کو ایسی عزت سے نوازا ہے کہ اس وقت ملک میں اپوزیشن بھی وہ ہیں ،حکومت بھی وہ ہیں اور پارٹی کے صدر بھی وہی ہیں جبکہ جس کو پارٹی ٹیک اوور کرنے کا کہا جارہا ہے وہ بھی ان کا اپنا ہی بھائی ہے تو اب ملک میں 1999جیسی صورتحال نہیں ہے اب اس مشکل وقت میں جو بھی پارٹی کو چھوڑ کر اور وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا اس کو بھگتنا ہوگا بلکہ اس کے حلقے کے عوام بھی اس کو نہیں چھوڑیں گے ،جو لوگ پارٹی سے اینٹیں گرنے کی باتیں کر رہے ہیں وہ خود بھی پارٹی سے ایک اینٹ بن کر گرے تھے اور پھر کتے کی طرح پائوں میں بار بار آکے پڑتے رہے کہ اس اینٹ کو واپس دیوار میں چن لیا جائے مگر پارٹی نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ ایسے لوگوں کو پارٹی میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا ،یہ ایک بڑی سیاسی پارٹی ہے اور اس میں سب کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/10/2017 - 23:12:14

اپنی رائے کا اظہار کریں