وزیراعظم سے ملاقات میں کراچی پیکج سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے ترقیاتی پیکجز ..
تازہ ترین : 1
وزیراعظم سے ملاقات میں کراچی پیکج سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے ترقیاتی ..

وزیراعظم سے ملاقات میں کراچی پیکج سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے ترقیاتی پیکجز کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی،فاروق ستار

میئر کراچی اور گورنر سندھ کے مابیین جن منصوبوں پر بات چیت ہوئی ہے ان کو حتمی شکل دے کر اکتوبر کے آخر تک فنڈزجاری کئے جائیں،سربراہ ایم کیوایم سندھ کے دیگر شہروں کے منصوبوں کیلئے بھی پیکج مانگا ہے دادو، سانکھڑ، سکھر، سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے بھی ہم نے پیکج مانگے ہیں،عارضی مرکز میں پریس کانفرنس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2017ء)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے سینئر ڈپٹی کنونیر عامر خان، ڈپٹی کنونیرز کنورنوید جمیل، میئر کراچی وسیم اختر، اراکین رابطہ کمیٹی و دیگر کے ہمراہ ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہماری وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات ہوئی جس میں کراچی پیکج سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے ترقیاتی پیکجز کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔

یہ ملاقات وزیراعظم پاکستان اور ان کے رفقاء کی خواہش پر ہوئی ، ہم وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے عوام کیلئے واضح نوید لائیں ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ وزیر اعظم صاحب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اکتوبر کے آخر تک کراچی پیکج پر کام شروع کردیا جائیگا۔ کراچی پیکج کے حوالے سے گزشتہ ماہ سے میئر کراچی وسیم اختر اور گورنر سندھ محمد زبیر کے مابین تفصیلی گفت و شنید چل رہی تھی۔

اس حوالے سے بھی وزیر اعظم صاحب نے وزارت خزانہ کو ہدایت جاری کی کہ کراچی کیلئے فنڈز فوری جاری کئے جائیں تاکہ کراچی پیکج پر اس مہینے کے آخر میں کام شروع ہوسکے ۔مزید براں میئر کراچی وسیم اختر اور گورنر سندھ کے مابین جن منصوبوں پا بات چیت ہوئی ہے ان کو حتمی شکل دے کر اکتوبر کے آخر تک فنڈزجاری کئے جائیں ۔ فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے عوام کے کیلئے یہ انتہائی خوشگوار خبر ہے کہ اکتوبر کے آخر تک کراچی کی تعمیر نو کے پیکج میں شامل منصوبوں کے فنڈز کا اجراء ہورہا ہے اور ان منصوبوں پر کام بھی شروع ہوجائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ نومبر میں حیدرآباد پیکج کے فنڈز کے اجراء کا بھی آغاز اور ان کے منصوبوں پر بھی عمل شروع ہورہا ہے۔ سربراہ فاروق ستار نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں اعلیٰ تعلیمی درسگاہ کے قیام کا دیرینہ مطالبہ بھی جلد پورا ہونے جارہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نومبر میں حیدرآباد میں میں وفاقی جامعہ کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور اس سے قبل اکتوبر کے آخر تک جامعہ کیلئے مختص کردہ زمین کو بھی حتمی شکل دے دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اعلانات کراچی و حیدرآباد کے عوام کیلئے بہت بڑی ریلیف ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ کیشہری علاقے وفاق کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں صرف کراچی ہی 80 تا 85 فیصد ٹیکس وفاق کو دیتا ہے لیکن اس کے عوظ ہمیں بامشکل 4 سے 8 فیصد ترقیاتی فنڈزملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں مہاجر، سندھ، پنجابی، بلوچی، سرائیکی اور کئی دیگر زبانیں بولنے والے افراد رہتے ہیں۔

انہوں نے ایک منصوبہ جو میئر کراچی اور رابطہ کمیٹی نے دیا تھا اسے بھی کراچی پیکج میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کیلئے اضافی فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے۔1997ء سے سندھ حکومت کو K-1 کا پروگرام دیا اور مشرف کے دور میں K-3 اور K-4 پر کام شروع کیا گیا ہے اس پر کام تیز سے تر کیا جائے۔ اگر فیز 2 پر بھی اسی فیز 1 کے ساتھ کام شروع کیا جائے تو لاگت کم آئے گی۔

اس پر بھی کام کا وزیر اعظم نے حکم دیدیا ہے اور اس کیلئے اضافی فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ جیسے جیسے منصوبے مکمل ہورہے ہیں ویسے ویسے عوامی مسائل میں بھی کمی آرہی ہے۔سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ وزیر اعظم سے فیز 2 پر تیزی سے کام کی منظوری لے لی ہی.65 ایم جی ڈی کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی پر بھی جلد کام کا آغاز ہوگا۔ حیدرآباد پیکج کی تفصیل نومبر میں حیدرآباد کے میئر طیب اور کراچی پیکج سے میئر کراچی وسیم اختر آگاہ کریں گے۔

وزیر اعظم جب کراچی و حیدرآباد کا دورہ کریں گے تو وہ سندھ کے دیگر شہروں کے منصوبوں کیلئے بھی پیکج مانگا ہے دادو، سانکھڑ، سکھر، سمیت سندھ کے دیگر شہروں کیلئے بھی ہم نے پیکج مانگے ہیں ۔ہماری کوشش ہے کہ بلا امتیاز رنگ ونسل پورے سندھ کی ترقی ہو۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعظم سے ملاقات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں غیرملکی تاریکین وطن اور مشرقی پاکستان سے آنے والے پاکستانیوں کے مسائل کو علیحدہ علیحدہ کرکے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستا ن سے آئے ہوئے لاکھوں نفوس کے شناختی کارڈ فوری جاری کئے جائیں ۔

اور پاکستان سٹیزن ایکٹ 1951کے سیکشن 16میں ترمیم کی جائے سیاسی جبر کی بنیاد پر کارکنان کی وفاداری تبدیل کرانے کے عمل سے بھی وزیراعظم کا آگاہ کیاگیا اوراس کے سد باب کا مطالبہ بھی کیا ۔ فاروق ستار کی قیاددت میں وفد نے اس امر کا اعادہ کیا کہ 23اگست 2016کے اقدام کی مددسے ہم نے اپنی کئی دہائیوں پر محیت سیاسی جدوجہد کو بچایا اور ہمارا یہ عمل پاکستان سے اٹوٹ محبت کا اظہار کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/10/2017 - 21:27:55

اپنی رائے کا اظہار کریں