یہ تو کچھ بھی نہیں ، سی پیک کے اندر ہوئی خرد برد سامنے آنے پر ہم پانامہ بھول جائیں ..
تازہ ترین : 1
یہ تو کچھ بھی نہیں ، سی پیک کے اندر ہوئی خرد برد سامنے آنے پر ہم پانامہ ..

یہ تو کچھ بھی نہیں ، سی پیک کے اندر ہوئی خرد برد سامنے آنے پر ہم پانامہ بھول جائیں گے۔ سلیم صافی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 اکتوبر 2017ء): سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم صفدر اور ان کے داماد کیپٹن (ر) صفدر پر آج احتساب عدالت میں فرد جُرم عائد کر دی گئی لیکن ملزمان نے صحت جُرم سے انکار کر دیا۔ اس سے متعلق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے جس کے پاس اختیار ہے وہ کوئی مصفانہ نظام نہیں بناتا اور جب یہ لوگ خود پھنس جاتے ہیں تو انہیں قوانین تبدیل کرنے کا خیال آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں میں نواز شریف نے نیب سے متعلق قوانین پر کوئی توجہ نہیں دی لیکن اب آ کر ان کی حکومت ان قوانین میں رد بدل کرنے کا سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی خیبر پختونخواہ میں شیخ رشید کے دوست عمران خان کے پاس اختیار ہے، وفاق میں تو حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نیب کا چئیرمین مقرر کیا جاتا ہے ، جبکہ خیبر پختونخواہ میں تو انہوں نے اپنا بندہ نکالا تھا،اور جیسے ہی صوبائی نیب چئیرمین نے کام کرنے کی کوشش کی تو جنرل حامد کو گھر بھیج دیا گیا ،اور آج ڈیڑھ سال ہو گیا دوسرا نیب چئیرمین تاحال مقرر نہیں کیا جا سکا۔

کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر نیب چئیرمین نے صحیح کام کیا تو پرویز خٹک کو بھی اندر ہو سکتے ہیں اور عمران خان بھی۔ میرا ماننا ہے کہ مخصوص احتساب کروا کر حکمران قوم کے ستاھ بھی ظلم کر رہےہیں اور اپنے ساتھ بھی ظلم کر رہے ہیں۔ اگر آج فرد جُرم کا فیصلہ نہ بھی آتا تو بھی ہمیں معلوم ہے کہ شریف خاندان معصوم نہیں ہے لیکن اگر ہم سی پیک کے معاملات کو دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ سی پیک سے متعلق تفصیلات کو سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا ۔ سلیم صافی نے کہا کہ جس دن سی پیک کی ڈیل کرنے والوں کے اعمال سامنے آ گئے ہم سب پانامہ کو بھول جائیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 19/10/2017 - 14:06:08

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں