امریکہ پاکستان پر نظر رکھنے کیلئے بھارت سے مدد لے سکتا ہے ‘امریکی سفیر
تازہ ترین : 1
امریکہ پاکستان پر نظر رکھنے کیلئے بھارت سے مدد لے سکتا ہے ‘امریکی سفیر

امریکہ پاکستان پر نظر رکھنے کیلئے بھارت سے مدد لے سکتا ہے ‘امریکی سفیر

بھارت اگر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو وہ سیکیورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے امریکہ، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کی جانب دیکھ رہا ہے‘نکی ہیلی کا خطاب

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اکتوبر2017ء)اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے۔واشنگٹن میںامریکہ بھارت فرینڈشپ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی نے بھارت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو وہ سیکیورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے۔

نئی دہلی میں واشنگٹن کے بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ امریکہ، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کی جانب دیکھ رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر نو کے لیے دی جانے والی امداد کے تناظر میں امریکہ کی مدد کر سکتا ہے بلکہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھی امریکہ کی مدد کر سکتا ہے۔

نکی ہیلی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنی جانب سے بنیادی کام کر لیے ہیں تاہم ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم انہیں (پاکستان کو) جوابدہ بنائیں جس کے لیے بھارت ہماری مدد کرنے جارہا ہے۔امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ امریکہ ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے جنوبی ایشیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکہ اپنے تمام معاشی، سفارتی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لائے گا۔

پاک امریکہ تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی سطح پر شراکت دار ہیں لیکن امریکہ، پاکستان میں یہ حکومت یا پھر ایسی کوئی حکومت برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جو امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے نئے نقطہ نظر میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے افہام و تفہیم اور تحمل کی ضرورت ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھارتی کردار کو سراہاتا ہے جبکہ واشنگٹن کی یہ خواہش ہے کہ بھارت افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنا کردار جاری رکھے۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے 2 ارکان (چین اور روس) سیکیورٹی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت سیکیورٹی کونسل کے ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ ویٹو پاور کا استعمال ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/10/2017 - 12:12:28

اپنی رائے کا اظہار کریں