نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا مجموعی سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے، آئی جی سندھ
تازہ ترین : 1
نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا مجموعی سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے، آئی جی سندھ

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا مجموعی سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے، آئی جی سندھ

ایڈیشنل آئی جی کراچی کرکٹ میچز کے مجموعی سیکیورٹی امور کی نگرانی کریں گے، اے ڈی خواجہ

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2017ء) آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے پی سی بی سیکیورٹی انچارج ریٹائرڈ کرنل اعظم خان نے سینٹرل پولیس آفس میں ملاقات کی اور فروری 2018 ء میں کراچی میں پی ایس ایل کے تحت ہونے والے کرکٹ میچز کی سیکیورٹی پر تفصیلی بات چیت کی۔ بدھ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دل، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، زونل ڈی آئی جیز ایسٹ سائوتھ، ایس ایس پی سیکیورٹی اسپیشل برانچ، اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او بھی موجود تھے۔

آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ایسٹ کو پی ایس ایل کرکٹ میچز کے جملہ امور کے حوالے سے فوکل پرسن نامزد کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ سے باہم روابط میں رہتے ہوئے نیشنل اسٹیڈیم کا مکمل طور پر سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے اور اس حوالے سے جامع رپورٹ تیار کی جائے تاکہ کرکٹ سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے فول پروف بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مرتب کردہ سیکیورٹی پلان میں بین الاقوامی معیار پر خصوصی فوکس رکھا جائے اور میچز کے دوران رینجرز و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے مربوط رابطوں جیسے اقدامات کو پلان میں لازمی شامل کیا جائے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ سیکیورٹی پلان کے تحت اسٹیڈیم ایریا کو ڈی آئی جی ایسٹ جبکہ اطراف کے رہائشی علاقوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے ڈی آئی جی سائوتھ دیکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وی آئی پی پارکنگ کے لئے باقاعدہ اسٹیکرز کا اجرا کیا جائے اور کھلاڑیوں و دیگر اسٹاف کے لئے ائیر پورٹ، رہائشی مقامات، روٹس اور اسٹیڈیم پر فول پروف سیکیورٹی اقدامات کو پلان کا حصہ بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ دوران کرکٹ میچز ٹریفک کی بلاتعطل روانی کے لئے متبادل راستوں اور اس کی باقاعدہ تشہیر کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میچز کے سیکیورٹی کے جملہ امور کی سپرویژن ایڈیشنل آئی جی کراچی کریں گے جبکہ کھلاڑیوں کے ساتھ آر آر ایف کی ایک پلاٹون کو بھی حرکت میں رکھنے کے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/10/2017 - 22:27:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں