مسلم لیگ کو غذر میں کوئی سیٹ نہ ملنے کی وجہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کی نااہلی تھی جس ..
تازہ ترین : 1
مسلم لیگ کو غذر میں کوئی سیٹ نہ ملنے کی وجہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کی نااہلی ..

مسلم لیگ کو غذر میں کوئی سیٹ نہ ملنے کی وجہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کی نااہلی تھی جس کیوجہ ناقابل تلافی نقصان پہنچا

جہاں امن ہوتا ہے وہاں ترقی خود بخود آتی ہے ،گلگت چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے ،22 ارب کی لاگت سے یہ اہم شاہراہ تعمیر ہوگی ،شندور انٹرنیشنل بارڈر ہے اس کی ذمہ داری رینجر اور جی بی سکاوٹس کو دی جائیگی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الر حمن کا گوپس میں عوامی جلسے سے خطا ب

ؑؑؑؑؑغذر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2017ء) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الر حمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کو غذر میں کوئی سیٹ نہ ملنے کی وجہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کی نااہلی تھی جن کی وجہ سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ، جہاں امن ہوتا ہے وہاں ترقی خود بخود آتی ہے گلگت چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے 22 ارب کی لاگت سے یہ اہم شاہراہ تعمیر ہوگی شندور انٹرنیشنل بارڈر ہے اس بارڈر کی ذمہ داری رینجر اور جی بی سکاوٹس کو دی جائیگی۔

وہ بدھ کو اپنے دورہ غذر کے موقع پر گوپس میں ایک عوامی جلسے سے خطا ب کر رہے تھے۔ ا نھوں نے کہا کہ مجموعہ چھوٹا ہو یابڑا لیکن لوگوں کو جھوٹے خواب دیکھانا ہماری پارٹی کا شیوہ نہیںماضی کی حکومتوں نے جھوٹے وعدے کئے اور پھر لوٹ کر نہیں آئی، ماضی کی سیاستدانوں نے سیاست جیسی پیغمبرانہ پیشے کو ظلم اور پیسہ کمانے کا ذاریعہ بنایا ۔وزیر اعلی نے کہا میں اپ جیسے پرخلوص لوگوں کے سامنے اپنے دائرہ کا ر میں رہتے ہوئے بات کرونگا تاکہ جھوٹ نہ ہو ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کو ضلع غذر سے کو ئی سیٹ نہیں ملا اس کی اصل وجہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کی نا اہلی تھی جن کی وجہ سے پارٹی کو بھی نا قابل تلفی نقصان پہنچا ۔، ضلع غذر کی اپنی ایک پہچان ہے کیونکہ یہ شہداء اور غازیوں کی سر زمین ہے،باہر سے جو بھی لوگ آتے ہیں اپ کی مہمانداری سے متاثر ہوتے ہیں یہاں پر سیاحت کے فروغ کے بہت سارے مواقع ہیں، ضلع غذر میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہاں پر ایک عرصے سے امن قائم ہے جہا ں امن ہوتی ہے وہا ں ترقی خو د ہی اتی ہے ،میں ضلع غذر کے علماء کرام اور واعظین کے علاوہ مکھی کامڑیا صاحبان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جن کی وجہ سے غذر میں امن قائم ہے ایڈمنسٹرشن کو ہدایت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ فرقہ واریت پھیلانے والے لوگوں کی سرکوبی کی جائے تاکہ غذر کی امن میں کوئی خلل نہ اجائے ۔

انہوں نے کہا کہ سترہ کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کے لئے دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ممبر کی ریکویسٹ پر 27کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ بھی دیا گیا ہے جو کہ ایم این اے فنڈز کے علاوہ ہے ۔ایفاد کی مدد سے غر بت دور کرنے کے لئے سوا اراب روپے سے غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے منصوبے جاری ہیں اور اٹھ لاکھ کنال اراضی آباد کر کے زمینداروںکو دینگے غذر میں اس وقت پانچ منصوبوں پر کام جاری ہے اگلے سال تک 25 ہزار کنال زمین آباد کیا جائیگا ۔

2019 تک ساڑھے دس میگاواٹ بجلی پید ا کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پھنڈٖر تحصیل کا پی سی فور منظور ہوا ہے بہت جلد ہی پھنڈر تحصیل کے پوسٹوں پر ملازمین کی تعیناتی عمل میں لایا جائیگا پھنڈر تحصیل کے بلڈنگ کے لئے ایک کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا جائگا ۔انہوں نے کہا کہ غذر میں قراقرم یونیورسٹی کی کمپس کے لئے ڈیڈھ کررڑ روپے منظور ہوئے ہیں 30دسمبر سے پہلے تدریس کا باقاعدہ کا م شروع ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ دو سو گھرانوں پر مشتمل گائوں کے لئے ار سی سی پل تعمیر کی جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ ضلع کا اعلان کرنا اور حلقے کو الگ کرنا میرے دائرہ کار میں نہیں عوام سے جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتا ،وفاق سے اپ کا مطالبہ کرتا رہونگا ۔انہوں نے کہا کہ حدود بندی کے مد میں ہم نے فنڈ جاری کیا ہے مقامی لوگوں کو حدود میں تعینات کیاہے ۔شندور انٹر نشنل بارڈر ہے اس بارڈر کی زمہ داری رینجرز یا جی بی سکائوٹ کو دی جائیگی ۔سی پیک کا ایکسپریس وے کا سروے دسمبر تک مکمل ہوگا اور جون سے پہلے 22اراب کی اس منصوبے پر کام شروع ہوگا

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/10/2017 - 21:50:43

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں