4000 اسکولوں میں آئندہ 6 ماہ کے اندر تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ ..
تازہ ترین : 1
4000 اسکولوں میں آئندہ 6 ماہ کے اندر تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں، ..

4000 اسکولوں میں آئندہ 6 ماہ کے اندر تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ کی محکمہ تعلیم کو ہدایت

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2017ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ کم از کم 4000 اسکول منتخب کریں اور انہیں آئندہ 6 ماہ کے اندر تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں جس کے لیے انہوں نے 6 بلین روپے کی منظوری دی ہے۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے محکمہ تعلیم (اسکولز) کے ساتھ وزیر اعلی ہائوس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈھر، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، ویزیر اعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری تعلیم اقبال درانی، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی و دیگر نے شرکت کی ۔ سیکریٹری تعلیم اقبال درانی نے وزیر اعلی سندھ کو پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ تقریبا 4000 اسکول ایسے ہیں جہاں پر واش رومز کی سہولت نہیں ہیں۔

اس پر وزیرا علی سندھ نے کہا کہ وہ انہیں بھی سہولیات کی عدم دستیابی کی پورٹس ہیں لہذا برائے مہربانی اس چیز کو بار بار نہ دہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ صرف ایک ٹارگٹ دے رہاہوں۔ انہوں نے سیکریٹری تعلیم سے کہا کہ آپ کم از کم 4000 اسکول منتخب کریں اور انہیں تمام تر سہولیات مثلا کمپائونڈ وال، لائبریری ، اساتذہ کا کمرہ اگر ضرورت ہے تو لیب ، واز رومز ، پینے کا پانی اور بجلی فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اسکول جہاںپر بجلی کے کنکشن ممکن نہیں ہیں وہاں پر انہیں سولر انرجی فراہم کی جائے، تقریبا 2500 اسکولوں کو سولر انرجی پر کیا جائے گا۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً 6 بلین روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلی سندھ نے مذکورہ رقم کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ کو کام شروع کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ اگلے 6ماہ میں ہوجانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہدف ہے اور اسے آپ نے حاصل کرناہے۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ 2012 میں 4249033ریکارڈ کی گئی تھی اور یہ 17-2016 میں بھی تقریبا وہی ہے۔اس پر وزیرا علی سندھ نے کہا کہ جب اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہوں گی تو والدین کس طرح اپنے بچوں کو وہاں داخل کرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار 4000اسکولوں کو بہتر بنادیاجائے تو انرولمنٹ کی شرح میں بھی خود بہ خود اضافہ ہوجائے گا۔

سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے وزیر اعلی سندھ کو بتایا کہ صوبے میں 38132پرائمری اسکول ہیں جس میں سے 4303لڑکیوں کے اور 28520مکس ہیں ۔ مڈل اسکول 2241ہیں،اس میں 545لڑکیوں کے اور 1377مکس ہیں۔سیکنڈری اسکولوں کی تعداد 1719ہے جبکہ 291ہائیر سیکنڈری اسکول ہیں ۔وزیرا علی سندھ نے کہا کہ 38132اسکولوں کے مقابلے میں مڈل اسکولوں کی تعداد2241ہے جوکہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ مڈل اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کیاجائے اور انہیں اضافی کمرے دیئے جائیں۔مگر پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے مڈل اسکول کرنے کا فیصلہ ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر کیاجائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پرائمری اسکولوں میں انرولمنٹ 2،735،156ہے، جن کے لیے 91092پرائمری اساتذہ کام کررہے ہیں۔ اس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک استاد 30 طلبا کو پڑھا رہاہے ،طلبا اور اساتذہ کی شرح خراب نہیں ہے بلکہ ہمیں اساتذہ کی استعداد کار پر توجہ دیناہے اور انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ اساتذہ کے تقرری تبادلوں کو معقول بنائیں۔

وزیر اعلی سندھ نے سیکریٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ اسکولوں کے حساب سے ڈیٹا تیار کریں جس کے تحت یہ پتہ چلے کہ وہاں کتنے طلبا اور اساتذہ کام کررہے ہیں، ان کا بجٹ ، سہولیات اور علاقہ لازمی شامل ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک نظام وضع کرنا چاہتا ہوں جس کے تحت اسکولوں کا ایک جامع ڈیٹا ہونا چاہیے تاکہ ان کے مسائل کی نشاندہی ہوسکے اور ان کا تدارک کیاجاسکے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ صوبے میں جدید پرائمری تعلیم متعارف کرانے کے خواہاں ہیں جس کے لییتیزی کے ساتھ کام شروع کیاجائے تاکہ آئندہ سیشن سے اسے متعارف کرایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پرائمری تعلیم بنیادی تعلیم ہے اور اگر بنیاد مضبوط ہوگی تو عمارت بھی مضبوط رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں جدید ٹیچنگ کے طریقے اپنانے چاہئیں ۔ وزیر اعلی سندھ نے فیصلہ کیا کہ وہ آج 4000 اسکولوں کے انفرااسٹرکچر کی مکمل طریقے سے ترقی دینے کے لیے طے کئے گئے ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت کا ہر 15 روز کے بعد جائزہ لیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/10/2017 - 21:46:23

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں