پاک چائنہ اقتصادی راہداری پاکستان کے بہتر مستقبل کا ذریعہ ہے ، ممنون حسین
تازہ ترین : 1
پاک چائنہ اقتصادی راہداری پاکستان کے بہتر مستقبل کا ذریعہ ہے ، ممنون ..

پاک چائنہ اقتصادی راہداری پاکستان کے بہتر مستقبل کا ذریعہ ہے ، ممنون حسین

قدرت نے ہمیں ترقی کیلئے راہداری کی شکل میں اس صدی کا عجیب و غریب منصوبہ دیا، فائدہ اُٹھانے کیلئے ہمیں جدید سائنسی و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو اہمیت دینی ہو گی منصوبہ سے صرف چین اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر ترقی یافتہ ممالک نے بھی اس منصوبے سے تجارتی اور صنعتی امیدیں وابستہ کر لی ہیں، صدر مملکت ہمیں ماہرین تیار کرنے ہوں گے جس سے ہمارے ملک میں صنعت کو فروغ ملے، ہمیں غیروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے میں مدد گار ثابت ہو گا، ہمارے ملک کو پچھلے کئی دہائیوں سے کرپشن نے تباہ کر دیا،اس ناسور کے خاتمے کیلئے ہمیں کردار ادا کرنا ہو گا جوکہ تعلیم کے عام کرنے سے ہی ممکن ہے،یونیورسٹی آٖ ف سائنس ٹیکنالوجی بنوں میں منعقدہ کنوکیشن سے خطاب

بنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2017ء)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی بہتر مستقبل کا ذریعہ ہے اس منصوبہ سے صرف چین اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر ترقی یافتہ ممالک نے بھی اس منصوبے سے تجارتی اور صنعتی امیدیں وابستہ کر لی ہیں قدرت نے ہمیں ترقی کیلئے راہداری کی شکل میں اس صدی کا عجیب و غریب منصوبہ دیا ہے مگر اس سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ہمیں جدید سائنسی و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو اہمیت دینی ہو گی اور ہمیں ماہرین تیار کرنے ہوں گے جس سے ہمارے ملک میں صنعت کو فروغ ملے گا اور ہمیں غیروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے میں مدد گار ثابت ہو گا ہمارے ملک کو پچھلے کئی دہائیوں سے کرپشن نے تباہ کر دیا ہے اس ناسور کے خاتمے کیلئے ہمیں کردار ادا کرنا ہو گا جوکہ تعلیم کے عام کرنے سے ہی ممکن ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے دورہ بنوں کے موقع پر یونیورسٹی آٖ ف سائنس ٹیکنالوجی بنوں میں منعقدہ کنوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اُنہوں نے وومن یونیورسٹی کیمپس ،سٹوڈنٹس سٹارٹ آف بزنس سنٹر اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ سنٹر کا افتتاح کیا تقریب سے گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا ،وفاقی وزیر ہاؤسنگ اکرم خان درانی ،صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن مشتاق احمد غنی ا ور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انجینئر سید عابد علی شاہ نے بھی خطاب کیا صدر ممنون حسین نے کہا کہ1970کے بعد ملک کے حالات خراب سے خراب ہوتے گئے کرپشن نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا اس وقت کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے سال 2008 میں پاکستان کے ذمے 7ہزار ارب روپے قرضہ تھا سال2013 کے انتخابات کے بعد یعنی 4سال کے دوران 14ہزار آٹھ سو ارب روپے قرضہ لیا عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ہسپتال ،ڈیم ،روز گار ،تعلیم کے نام پر لیا گیا قرضہ کہاں گیا کیونکہ نہ تو اب تک ملک میں ڈیم بنائے گئے ہیں نہ ہسپتال آخر یہ پیسہ کہاں گیا جھوٹ ،مکر ،فریب اور مداری کی سیاست نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا یا ہے لیکن یا د رہے جس نے جتنا اس ملک کو لوٹا ہے نقصان پہنچا یا ہے اس کا بدلہ بھی اللہ اس سے لے گا انشا ء اللہ دیا میر ،بھا شا ڈیم سے چار ہزار تین سو میگا واٹ بجلی ،داسو ڈیم سے چار ہزار پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 2018کے بعد ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یا نہایت کمی آئے گی اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں اور بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کو اپنے اندر سے نکال کر باہر کریں تو یہ ملک ترقی کرے گا اُنہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت مضبوط ہے موجودہ حکومت نے دس ارب ڈالر بمعہ سود کے واپس کر دیئے اور اس وقت 15سے لیکر20ارب ڈالر ملکی خزانے میں موجود ہیں اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ جھوٹ اور فریب کی سیاست بند کرو ایمانداری اور سچائی کیساتھ سیاست کریں اُنہوں نے طالبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزان کرانے میں اپنا کردار ادا کریں ملک کو عدم استحکام سے نکالنے کیلئے جدید علوم اور ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر نا ہو گا بد قسمتی سے ہماری جامعات ابھی تک بین الاقوامی جامعات کے معیار پر نہیں پہنچے لیکن اگر ہم اپنی جا معات کی فیکلٹی، ایڈمنسٹریشن اور طلبہ کو دی جانے والی سہولیات پر توجہ دیں تو کوئی رکاؤٹ نہیں کہ ہم بین الا قوامی معیار سے پیچھے رہیں اس موقع پر فارغ التحصیل 40 طلبہ و طالبات میں گولڈ میڈل اور ڈگریاں تقسیم کیں جبکہ بنیور کینسر ہسپتال کیلئے 50لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/10/2017 - 21:07:40

اپنی رائے کا اظہار کریں