جاپان حکومت کا پاکستان کو پولیو کے تدارک کے لیے 520 ملین ین کی مالی امداد فراہم کرنے ..
تازہ ترین : 1
جاپان حکومت کا پاکستان کو پولیو کے تدارک کے لیے 520 ملین ین کی مالی امداد ..

جاپان حکومت کا پاکستان کو پولیو کے تدارک کے لیے 520 ملین ین کی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان

پولیو کے تدارک کے لیے جاپان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مالی امداد کے تعاون کو سراہتے ہیں ،ْ سائرہ افضل تارڑ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2017ء)جاپان حکومت نے پاکستان کو پولیو کے تدارک کے لیے جاری جدوجہد اور پولیو ویکسین کی ترسیل و خریداری میں تعاون کی فراہمی کے لیے 520 ملین ین کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جاپان حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اس مالی امداد سے سال 2017-18 کے دوران پولیو وائرس کی افزائش نسل کے حوالے سے قلیل موافق موسم میں اہداف کے حصول کے لیے پولیو ویکسینیشن مہم کو زیادہ موثر انداز سے چلانے میں مدد ملے گی۔

جاپان کی جانب سے اعلان کردہ مالی امداد کے لیے جاپان حکومت کے زیر انتظام مالی امداد کے ادارے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے حکام نے بدھ کو باقاعدہ طور پر معاہدے پر دستخط کے بعد دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ اس 4.63 ملین امریکی ڈالر مالیت کی امداد سے پولیو ویکسین کے حفاظتی قطروں پر مشتمل اورل پولیو ویکسین (او پی وی) کی 28 ملین خوراکوں کی خریدادی میں مدد ملے گی؛ جس سے پاکستان بھر میں انتہائی تشویشناک قرار دیئے گئے اضلاع میں مقیم 5 سال سے کم عمر کے 25 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے اور پولیو پروگرام کے تحت بچوں میں مدافعتی خلا کو پٴْر کرنے میں مدد حاصل ہو گی۔

جاپان حکومت کے زیر انتظام مالی امداد کے ادارے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف حکام کے مابین معاہدے کی دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا، جاپان کی حکومت اور دیگر شراکتی اداروں کی جانب سے مستقل تعاون اور مشترکہ موثر جدوجہد ہی پولیو کے تدارک کے پروگرام میں گذشتہ دو سالوں کے ددوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بنیادی عوامل ہیں۔

مشترکہ جدوجہد کے ذریعے پولیو کے موضی مرض کو شکست دینے کے عزم کی وجہ سے ہی ہم پاکستان کی عوام اور بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنانے میں کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں"۔ پولیو کے تدارک کے لیے جاپان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مالی امداد کے تعاون کے اس عزم کو سراہتے ہوئے پولیو تدارک کے حکومتی پروگرام میں وزیر اعظم کی نمائندہ خصوصی سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا، "گذشتہ کئی برسوں سے جاپان کی حکومت اور عوام ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں جاری پولیو پروگرام کو بہترین صحت سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے آج دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہمیں اپنی کامیابیوں پر فخر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم پورے عزم کے ساتھ غیر موافق موسم میں پولیو کے موذی وائرس کی افزائش نسل کو روکنے اور محفوظ علاقوں میں اس موذی وائرس کے مزید پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے جدوجہد ابھی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پولیو کے تدارک کے پروگرام کی مثبت کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال 2017 میں اب تک صرف 5 کے قریب پولیو کیسز رپورٹ آئے ہیں"۔پاکستان کے لیے غیر معمولی اور مکمل اختیار ات کے حامل جاپان کے سفیر، تاکاشی کورائی کا کہنا تھا: "پولیو بلاشبہ صحت کے شعبے میں ایک عالمی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس موذی مرض سے بچاؤ پولیو ویکسین کے استعمال سے ممکن ہے۔

پولیو ویکسینیشن میں جاپان پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان حکومت کے ساتھ ملکر یہ ہمارا مشترکہ عزم ہے کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین پینے سے محروم نہیں رہنا چاہئیے۔ ہمیں یقین ہے کہ جلد پاکستان سے اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کا عالمی ہدف حاصل کرنے میں ہم کامیاب ہو جائیں گی"۔ پاکستان میں جائیکا کے سربراہ نمائندے، یاسوہیرو توجو کا کہنا تھا، " پولیو وائرس کے تدارک کے حوالے سے پاکستان کے عزم اور کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ہمیں اس جدوجہد کا حصہ بننے میں انتہائی خوشی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پولیو سے بچاؤکے حفاظتی قطروں پر مشتمل اورل پولیو ویکسین کی اضافی خریداری میں ہمارے تعاون سے پاکستان میں پولیو ویکسینیشن مہم کو زیادہ موثر انداز سے چلاتے ہوئے مقررہ اہداف اور پولیو وائرس کے مکمل خاتمے میں کامیابی کے حصول میں مدد ملے گی"۔ پاکستان میں یونیسیف کی قائم مقام سربراہ نمائندہ، کرسٹئین منڈویٹ کا کہنا تھا، "یہ نئی مالی امداد اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان پولیو کے موذی وائرس کے پھیلائو کو محدود کرنے اور اس وائرس کے تدارک کی جدوجہد میں بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ حکومت پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور تمام شراکتی اداروں کے تعاون کی مدد سے ہم مشترکہ طور پر اس موذی وائرس کو افزائش نسل کے قلیل موافق موسم کے دوران شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گی"۔پولیو کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں رواں سال کے دوران پولیو کے صرف 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو گذشتہ سال 2016ء میں رپورٹ ہونے والے 16 کیسز کے مقابلے میں بہت بڑی کامیابی ہے۔

بچوں کو ایک سے زائد پولیو ویکسینیشن کی خوراکیں پلانے کا مقصد انہیں اس موذی وائرس کے حملے سے مکمل طور پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کی ایک سے زائد خوراکیں پلانے سے ملک کی ایک بڑی آبادی میں پولیو کے اس موذی وائرس کے پھیلنیکی روک تھام میں بھی مدد حاصل ہو گی۔نیشنل ایمرجنسی پلان کے تحت، پولیو پروگرام میں سال 2017-18 کے دوران پولیو کے پھیلاؤ کے قلیل مدتی موسم میں قومی اور ذیلی سطح پر 10 کے قریب پولیو مہمات کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ منتخب شدہ علاقوں میں مدافعتی خلا کو پٴْر کرنے کے لیے داخلی اور خارجی راستوں پر قائم ویکسینیشن پوائنٹس پر ویکسین کی مستقل فراہمی کے لیے خصوصی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اس منصوبہ بندی کے تناظر میں حفاظتی بیماریوں سے بچاؤ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں پر مشتمل اورل پولیو ویکسین کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جسے موجودہ اعلان کردہ مالی امداد سے پورا کرتے ہوئے ملک بھر میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔جاپان کی حکومت 1996ء سے پولیو کے مکمل تدارک کے لیے پاکستان کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔

پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں پر مشتمل اورل پولیو ویکسن اور پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں پر مشتمل آئی پی وی ویکسین کے خریداری کے لیے جاپان کی حکومت پاکستان کو ابھی تک24 ارب ین یعنی.35 218ملین امریکی ڈالر بشمول 520 ملین ین کی موجودہ مالی امد اد فراہم کر چکی ہے جسکی وجہ سے ویکسین کو محفوظ بنانے اور کولڈ چین سسٹم کو مستحکم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/10/2017 - 20:06:07

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں