سپریم کورٹ ، عمران خان کی جانب سے منی ٹریل سے متعلق متفرق درخواست پر حنیف عباسی ..
تازہ ترین : 1
سپریم کورٹ ، عمران خان کی جانب سے منی ٹریل سے متعلق متفرق درخواست پر ..

سپریم کورٹ ، عمران خان کی جانب سے منی ٹریل سے متعلق متفرق درخواست پر حنیف عباسی کوجواب جمع کرانے کی ہدایت

حال ہی میں جمع کردہ دستاویزات کی کریڈیبلٹی چیلنج ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ جہانگیر ترین کی جانب سے لیز پر حاصل کردہ اراضی کا سرکاری ریکارڈ عدالت میں جمع نہیں کرایا جاسکا

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2017ء) سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اورسیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عمران خان کی جانب سے ایک لاکھ پائونڈ کے منی ٹریل سے متعلق متفرق درخواست پر حنیف عباسی کوجواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ حال ہی میں جمع کردہ دستاویزات کی کریڈیبلٹی چیلنج ہو سکتی ہے، دوسری جانب جہانگیر ترین کی جانب سے اب تک لیز پر حاصل کردہ اراضی کا سرکاری ریکارڈ عدالت میں جمع نہیں کرایا جاسکا ، جس کاجمع کرناہی لازمی ہے ، منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس فیصل عرب پرمشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کا آغاز ہوا تو نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایک لاکھ پائونڈ سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع کرا دی ہیں جن کے ساتھ بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی رسیدیں بھی شامل ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو ریکارڈ ٹکڑوں میں پیش کیا جار ہا ہے، اوراب بھی پوری دستاویزات نہیں دی گئی ہیں۔

چیف جسٹس کاکہناتھا کہ اس کیس میں اتنی درخواستیں آئیں کہ اب تعداد یاد نہیں، کسی نہ کسی طرح دستاویزات کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے،عدالت کو اب تک ایسا ریکارڈ نہیں دیا گیا جس سے معلوم ہو کہ نیازی سروسز کے اکائونٹ میں رقم مقدمہ سازی کیلئے رکھی گئی تھی،جسٹس عمر عطاء بندیال نے فاضل وکیل سے کہا کہ ایک لاکھ پائونڈ کی رقم میں سے 27 ہزار پائونڈ کا پتا نہیں چل رہا، جس پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا 26 مئی 2003 ء کو جمائمہ نے 93 ہزار پاونڈ عمران خان کو بھیجے، ایک لاکھ پاونڈ میں سے عمران خان نے پہلے چالیس اور پھر 42 ہزار وصول کئے ہیں ، جسٹس عمرعطابندیا ل نے کہاکہ آپ یہ رقم بنی گالہ کی جائیداد سے جوڑ ناچاہتے ہیں آپ کوچاہئیے تھاکہ اب تک عدالت کوسب کچھ بتادیتے ، فاضل وکیل کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی درخواست پر حنیف عباسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، نعیم بخاری کے بعد جہانگیرترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے پیش ہوکرعدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے جہانگیرترین کی جانب سے لیزپرلی گئی اراضی سے متعلق تمام ریکارڈ عدالت میں جمع کروا دیا ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے ان سے کہاکہ آپ نے ابھی تک مالیہ اور خسرہ بندی کا سرکاری ریکارڈ عدالت میں جمع نہیں کروایا، آپ کوثابت کرناہوگا کہ آپ ان زمینوں کوکاشت کررہے تھے ،جس پر فاضل وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے آبیانہ اور بجلی کے اخراجات عدالت کو بتا دیئے ہیں لیکن اراضی پر ٹیکس جہانگیر ترین نہیں بلکہ اصل مالکان ادا کرتے ہیں اور مالکان لیز کا سرکاری اندراج کرنے کے حق میں نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراس چیک کے علاوہ آپکے پاس کوئی اور ثبوت ہے کہ آپ نے یہ اراضی لیز پر لی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو کراس چیکس آپ نے عدالت کو دیئے ہیں، لگتا ہے کہ آپ نے بطور کرشر گنے کی خریداری کی ادائیگیاں کی ہیں، سماعت کے دور ان چیف جسٹس نے کہا کہ شوگر مل مالکان قرضہ دیتے وقت کاشتکاروں سے زمین کی دستاویزات اپنے پاس رکھ لیتے ہیں،آپ کو ٹھیکے پر اپنی کاشتکاری کیلئے خسرہ گرداوری عدالت میں پیش کرنا ہو گا، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ بوگس ادائیگیوں کو عمومی طور پر زرعی آمدن ظاہر کیا جاتا ہے ،جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ عدالت تسلیم کرے یا نہ کرے کراس چیکس ہی لیز کی زمین پر کاشتکاری کے حقیقی ثبوت ہیں، چیف جسٹس نے کہا ہم اپنی ایمانداری کا جائزہ لے رہے ہیں اور آپ نااہلی کے مقدمے میں قانون کو چیلنج کر رہے ہیں، اس پر سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ نااہلی مستقل تصور کی جاتی ہے جو زندگی بھر کا داغ ہے، بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/10/2017 - 21:16:14

اپنی رائے کا اظہار کریں