الیکشن 2018 میں کامیاب ہوکر ملک میں اداروں بشمول نیب اور ایف بی آر کو ٹھیک کرینگے ..
تازہ ترین : 1
الیکشن 2018 میں کامیاب ہوکر ملک میں اداروں بشمول نیب اور ایف بی آر کو ..

الیکشن 2018 میں کامیاب ہوکر ملک میں اداروں بشمول نیب اور ایف بی آر کو ٹھیک کرینگے ،ْ عمران خان

کے پی کے حکومت کا ایک سال دھرنے اور دوسرا سال پاناما کیس میں نکل گیا ،ْ قانون کی بالا دستی اور میرٹ کا نظام ختم ہوجائے تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں ،ْایچی سن کے بچے سڑکوں پر کھیلنے والے بچوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ،ْنیب چھوٹے پٹواریوں کے بجائے بڑے مجرموں کو پکڑے ،ْ 2007میں لوگ بانی ایم کیو ایم سے ڈرتے تھے ،ْ آج کوئی سیریس نہیں لیتا ،ْ آصف زرداری کا کرپشن پر بات کرنا قیامت کی نشانی ہے ،ْ تقریب سے خطاب

مالاکنڈ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2017ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن 2018 میں کامیاب ہوکر ملک میں اداروں بشمول نیب اور ایف بی آر کو ٹھیک کرینگے ،ْ کے پی کے حکومت کا ایک سال دھرنے اور دوسرا سال پاناما کیس میں نکل گیا ،ْ قانون کی بالا دستی اور میرٹ کا نظام ختم ہوجائے تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں ،ْایچی سن کے بچے سڑکوں پر کھیلنے والے بچوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ،ْنیب چھوٹے پٹواریوں کے بجائے بڑے مجرموں کو پکڑے ،ْ 2007میں لوگ بانی ایم کیو ایم سے ڈرتے تھے ،ْ آج کوئی سیریس نہیں لیتا ،ْ آصف زرداری کا کرپشن پر بات کرنا قیامت کی نشانی ہے۔

پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان عمران خان نے مالا کنڈ یونیورسٹی میں تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک سال دھرنے میں نکل گیا اور دوسرا سال پاناما کیس میں نکل گیا،ادارے تباہ ہوجائیں تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں۔اے ڈی خواجہ نے کہا کہ انہیں خیبرپختونخوا والا پولیس کا نظام چاہئے۔انہوں نے کہا کہ گورننس کا مطلب ملک کے اداروں میں قانون کی بالا دستی اور میرٹ کا نظام ہے،قانون کی بالا دستی اور میرٹ کا نظام ختم ہوجائے تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت پہاڑ ہیں ،ْکچھ اور نہ ہونے پر بھی سوئٹزرلینڈ بھی ہم سے زیادہ خوشحال ہے ،ْکوئی بھی اسکینڈے نیویا کے ممالک کے وزراء اعظم کے نام نہیں جانتا،وہاںکے ممالک میں ادارے مضبوط ہیں وزرائے اعظم کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ جمہورت میں لیڈر شپ میرٹ پر آتی ہے ،ْبادشاہت میں لیڈر شپ رشتے داری کی وجہ سے آتی ہے ،ْہماے ہاں کبھی بھی اصلی جمہوریت نہیں رہی ،ْہمارے پاس یورپی ممالک سے زیادہ وسائل ہیںانہوں نے کہا کہ پاکستان میں تین متوازی تعلیمی نظام چل رہے ہیں ،سرکاری اسکولوں کے بچے کیسے نجی تعلیمی اداروں کے بچوں کا مقابلہ کریں گے ،ْہماری یوتھ ہماری طاقت بھی بن سکتی ہے اور تباہی بھی،غریب گھرانوں کے بچوں میں آگے بڑنے کی چاہ ہوتی ہے،ایچی سن کے بچے سڑکوں پر کھیلنے والے بچوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر میں 32سو ارب روپیہ چوری ہورہا ہے ،ْسابق نیب چیئرمین کے مطابق نیب میں روزانہ کی بنیاد پر 12 ارب کی کرپشن ہوتی ہے،نیب چھوٹے پٹواریوں کے بجائے بڑے مجرموں کو پکڑے۔عمران خان نے کہا کہ 2007 میں الطاف حسین کے حکم پر کراچی میں لوگوں کو گولیاں ماری گئیں ،ْ اس وقت الطاف حسین سے لوگ ڈرتے تھے آج اس کو کوئی سیریس نہیں لیتا، جو ڈرتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے، سارے پیغمبر اپنے وقت کے اسٹیٹس کو اور ظالم کے خلاف کھڑے ہوئے تھے،پیغمبروں کا راستہ مشکل راستہ ہے، آسان راستہ تباہی کا راستہ ہے، لیڈر بنتا ہی جدوجہد سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو تباہ کرنا ہے تو انہیں آسان اور پر آسائش زندگی دے دیں ،قائد اعظم نے سو سال پہلے دیکھ لیا تھا، آپ آج مودی کے ہندوستان کو دیکھ رہے ہیں، جدوجہد سے عاری زندگی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،ْ جس کے جتنے زیادہ دشمن ہوں سمجھ جائیں وہ اتنا بڑا لیڈر ہے، مجھ پر کئی سیاست دانوں نے اربوں روپے کے ہرجانے کے دعوے کر رکھے ہیں، آصف زرداری کا کرپشن پر بات کرنا قیامت کی نشانی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان وسائل سے بھرپورملک ہے، مسلمان ملکوں کے پیچھے رہنے کی ایک وجہ بادشاہت ہے، درست نظام میں عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ مجھے کیوں نکالا، گورننس کا مطلب ملکی اداروں میں قانون اور میرٹ کا نظام بہتر کرناہوتا ہے، خیبرپختونخوا میں 2013 سے پہلے 50 فیصد اسکولوں میں اساتذہ ہی نہیں تھے، پاکستان میں تین الگ الگ نظام تعلیم چل رہے ہیں ، انگلش اسکول سسٹم، مدارس اورسرکاری تعلیمی ادارے ہیں، اچھے معاشرے میں انصاف اور میرٹ کا نظام اچھا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 2002 میں پہلی بار ایم این اے بنا تو آفس میں چائے والا اسکول ٹیچر بننے کی درخواست لے کر آگیا، میں نے اس سے پوچھا تمہاری تعلیم کتنی ہے تو کہا کہ میٹرک فیل ہوں، میں نے کہا کہ تم اسکول ٹیچر کیسے بن سکتے ہو، اس طرح تو بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی پھر وہ کیسے آگے بڑھیں گے جبکہ تعلیمی میدان میں زبردست میرٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/10/2017 - 19:02:40

اپنی رائے کا اظہار کریں