حاجیوں کو بجھوانے کے لیے پرانی کمپنیوں اور وزارت کی ملی بھگت سے حجاج کرام کو مسائل ..
تازہ ترین : 1

حاجیوں کو بجھوانے کے لیے پرانی کمپنیوں اور وزارت کی ملی بھگت سے حجاج کرام کو مسائل کا سامنا رہا ہے،سینیٹر حافظ حمداللہ

پرانی کمپنیوں نے نئے ناموں سے رجسٹر ڈ ہوکر حجاج کرام کو لوٹا، وزارت مذہبی امور میں موجود کالی بیٹروں کو نکال کر باہر کیا جائے پرائیوٹ ٹوئرز آپریٹر سے ملے ہوئے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2017ء) سینٹ قائمہ کمیٹی مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمداللہ نے کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حاجیوں کو بجھوانے کے لیے پرانی کمپنیوں اور وزارت کی ملی بھگت سے حجاج کرام کو مسائل کا سامنا رہا ہے۔ پرانی کمپنیوں نے نئے ناموں سے رجسٹر ڈ ہوکر حجاج کرام کو لوٹا ۔

وزارت مذہبی امور میں موجود کالی بیٹروں کو نکال کر باہر کیا جائے۔ پرائیوٹ ٹوئرز آپریٹر سے ملے ہوئے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔مضبوط مافیہ سے نکلنے کا واحد راستہ نئے لوگوں کی شمولیت اور مقابلہ ہے۔ وزارت سے ملے ہوئے مافیا نے 60اور 40فیصد حج کو ٹہ کو ناکام بنانے کے لیے ملی بھگت کی۔ وزیر مملکت پیرامین الحسانات نے بتایا کہ تمام پرانی کمپنیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔

معروف چارٹرڈ اکاؤنٹس کمپنیوں کے ذریعے نئی اور پرانی کمپنیوں کو ایک پیمانے اور معیار سے گذارا جائے گا۔ اس سال حج کے موقع پر چھوٹے چھوٹے مسائل پیدا ہوئے ۔ قائد ایوان سینٹ راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ حجاج کے مسائل سے متعلق وزارت مذہبی امور نے ذمہ داری سعودی حکومت پر ڈال دی۔ سعودی حکومت نے بھی ذمہ داری وزارت مذہبی امور پاکستان پر ڈالی ۔

ان اختلافاتی بیانات سے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت کی ملی بھگت سے سرکار ، حکومت ، قوم اورریاست کی بدنامی ہوئی ہے۔ سینیٹر اشوک کمار نے الہاشمی کمپنی کے حجاج کرام سے فراڈ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی۔ جس پر بتایا گیا کہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس ہے۔

اراکین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ عازمین حج سے فراڈ کرنے والے کا حج کوٹہ ابھی تک ختم کیوں نہیں کیا گیا ۔سینیٹر باز محمد خان نے کہا کہ فراڈ سے پیسے لیے گئے فوجداری مقدمہ ابھی تک کیوں نہیں بنایا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ پرائیوٹ کمپنی کے بارے میں وزارت کی طرف سے ایف آئی اے کو بجھوائی گئی درخواست ایف آئی اے کی کارروائی کے بارے میں تحریری تفصیلات اگلے اجلاس میں طلب کرلی۔

رویت ہلال کمیٹی کے بارے میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں سے منظور شدہ قراردادوں اور وزارت کی کوششوں کے بارے میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قرار دادیں منظور ہوگئی ہیں وزارت نے ابھی تک کیا پیش رفت کی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ عید کا چاند ایک روز دیکھا جائے اور روزہ بھی ایک دن رکھا جاسکے۔

راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ وزارت مذہبی امور پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران مسودہ منظور کرانے اور اپنے آفیسر کے ذریعے رابطہ کرکے وزارت قانون کے حوالے کرے۔ وزارت اپنا اختیار استعمال کرکے جلد سے جلد اپنا کام مکمل کرے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آسانیاں پیدا کریںا ور مسودے کو جلد حتمی شکل دیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اورمرکزی ممبران کمیٹی کی اسناد تصدیق شدہ ادارے سے ہوں اوردرس و تدریس کا تجربہ 20سال کا ہونا چاہیے ۔

سینیٹر اشوک کمار نے کہا کہ وزارت آئندہ دیوالی منانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کے ساتھ اجلاس منعقد کرے ۔ اسلام آباد میں وزارت کے زیر اہتمام مرکزی دیوالی پروگرام میں عام ہندوؤں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ وزارت حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی پروازوں میں نماز اور وضو کی الگ جگہ کے لیے سی اے اے کو خط لکھ دیا ہے۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میںقائد ایوان سینٹ راجہ محمد ظفرالحق، سینیٹرزباز محمد خان ، صالح شاہ ،برگیڈیئر (ر)جان ولیم کینتھ، اشوک کمار کے علاوہ وزیر مملکت پیرامین الحسنات اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/10/2017 - 18:01:01

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں