فوج ار حکومت ایک دوسرے کی پشت پر کھڑی ہے، احسن اقبال
تازہ ترین : 1
فوج ار حکومت ایک دوسرے کی پشت پر کھڑی ہے، احسن اقبال

فوج ار حکومت ایک دوسرے کی پشت پر کھڑی ہے، احسن اقبال

فوج جمہوریت اور حکومت میں بال برابر بھی فرق نہیں ہم معیشت اور د ہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں تمام ادارے ملک کو مضبوط بنانے کیلئے کام کررہے ہیں، وزیر داخلہ کی شہید کیپٹن حسنین کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو شہید کے اہلخانہ سے تعزیت اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی

ننکانہ صاحب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2017ء) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ فوج اور حکومت ایک دوسرے کی پشت پر کھڑی ہے، فوج جمہوریت اور حکومت میں بال برابر بھی فرق نہیں ہم معیشت اور دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تمام ادارے ملک کو مضبوط بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔ پیر کے روز وزیر داخلہ احسن اقبال شہید کیپٹن حسنین کے گھر گئے جہاں پر انہوں نے شہید کے اہلخانہ سے تعزیت اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ شہید کیپٹن حسنین اور تین سپاہیوں کی شہادت ہمارے لیے قابل فخر ہے۔

پاکستان کیلئے قربانی دینے والے جوان ہمرے ماتھے کا جھومر ہیں، شہید حسنین اور ان کے ساتھیوں نے ملک کیلئے جان قربان کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور ایک جسم کی مانند ہیں پاک فوج حکومت اور حکومت پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے پاکستانی قوم اور فوج خطرات سے کبھی نہیں گھبراتی قوم کے جذبوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

غیر ملکی مغویوں کی رہای پر پوری دنیا نے پاک فوج کے کارنامے کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مثبت پہلو اجاگر کرنے ہیں فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے ہم سب ایک کشتی کے سوار ہیں اور ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کی جنگ لر رہے ہیں معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے بھی ہم سب یکجا ہیں میرا بیان فوج کے خلاف نہیں تھا میں نے بیان دیا ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کردی بات ختم ہوگئی انہوں نے کہا کہ مضبوط پاکستان کیلئے اپنی صفوں میں یکجہتی کی ضرورت ہے ہر کوئی اپنے دائرے میں کام کرے تو مسائل حل ہوں گے پاکستان کو مضبوط اور معاشی طاقت بنانے کیلئے ہم اپنا کردار کادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ 2017 ء کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہت بہتر ہے آج پاکستان آدھا گلاس بھرا ہوا اور آدھا خالی ہے ملک دشمنوں کی کوشش ہے کہ ملک میں بداعتمادی اور عدم استحکام پیدا کیا جائے ملکی استحکام کے لیے تمام ادارے متحد اور اپنا کام کررہے ہیں دہشت گردوں کو مکمل شکست دینے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی انہوں نے ہا کہ جس ملک کا استحکام کمزور ہو اس کی طاقت کم ہوجاتی ہے اقتصاری ترقی کیلئے ہم خطے اور افغانستان میں امن چاہتے ہیں اگلے سال بجلی کی قلت پر قابو پالیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/10/2017 - 21:20:12

اپنی رائے کا اظہار کریں