گورنر سندھ سے آڈیٹر جنرل پاکستان کی ملاقا ت ، اہم امور پر تبادلہ خیال
تازہ ترین : 1
گورنر سندھ سے آڈیٹر جنرل پاکستان کی ملاقا ت ، اہم امور پر تبادلہ خیال

گورنر سندھ سے آڈیٹر جنرل پاکستان کی ملاقا ت ، اہم امور پر تبادلہ خیال

سرکاری اداروں اور منصوبوں میں شفافیت برقرار رکھنے کے لئے آڈٹ کا موثر نظام نا گزیر ہے، گورنر سندھ ترقیاتی منصوبوں اور ان کے لئے مختص رقوم میں مسلسل اضافہ سے آڈیٹر جنرل کے دفتر کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کا ازالہ کر کے اداروں کی کارکردگی کو موثر بنایا جاسکتاہے، محمد زبیر؂ کی آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر سے گفتگو

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے سرکاری اداروں اور منصوبوں میں شفافیت برقرار رکھنے کے لئے آڈٹ کا موئثر انتظام عوامی فنڈ ز کے ضیاع اور خرابیوں کو روکنے کے لئے انتہائی ناگزیر ہے ،امن و امان کا براہ راست تعلق قومی معیشت سے او ر معیشت کے استحکام اور او ر ا س کے تسلسل کے لئے فنڈز کے بہتر استعمال اور نگرانی کے لئے آڈٹ کا موئثر نظام اہم ثابت ہو سکتا ہے اس ضمن میں آڈیٹر جنرل کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آڈیٹر جنرل پاکستان جاوید جہانگیر سے ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی آڈیٹر جنرل ڈاکٹر غلام محمد میمن،اکاؤنٹینٹ جنرل سندھ فرخ احمد حمیدی اور ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ محمد اسحاق خسرو بھی موجود تھے۔ ملاقات میں جاری منصوبوں ، سرکاری اداروں کے مالی انتظام ، سرکاری ملازمین کو سہولیات کی فراہمی سمیت اہمیت کے حامل دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے گورنر سندھ کو اپنے ادارہ کی ذمہ داریوں،فرائض ،کامیابیوں اور اہداف کی بارے میں تفصیلی بھی بریفنگ دی۔گورنر سندھ نے کہا کہ سرکاری اکاؤنٹس اور ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال کے ضمن میں آڈیٹر جنرل کا کردار اہم ہے،ترقیاتی منصوبوں اور ان کے لئے مختص رقوم میں مسلسل اضافہ سے آڈیٹر جنرل کے دفتر کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، ادارہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن اور دیگر واجبات کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن احسن اقدام ہے۔

گورنر سندھ نے ہدایت کی کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی جلد از ادائیگی کے لئے مزید اقدامات اورآڈٹ کے مختلف مراحل کے بارے میں سرکاری محکموں کو مسلسل آگاہی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کا ازالہ کر کے اداروں کی کارکردگی کو موثر بنایا جاسکتاہے جبکہ مالی سال کے اختتام کے بعد جلد از جلد آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آڈٹ افسران کو اپنے شعبہ میں ہونے والی تبدیلیوں اور پیش رفت کے بارے میں مسلسل آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں ترقیاتی منصوبے میں تیزی سے جاری ہیںجبکہ وفاق کے تعاون سے بھی میگا پروجیکٹس پر کا م تکمیل آخری مراحل میں ہے، عوامی ترقیاتی منصوبے کی افادیت کے ساتھ ساتھ فنڈز کا درست سمت استعمال بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے حکومت کا بازو ہوتے ہیں ان کے استعمال کے لئے قوانین وضح کئے گئے ہیں ، ذمہ داریوں کے تعین کا بھی واضح انتظام ہے ، عوامی فنڈز کے استعمال کے لئے ادارے متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی فنڈز کی جانچ پڑتال کے کام کے لئے اداروں کا موئثر کردار اس کی اہمیت کو مزید فوقیت فراہم کرتا ہے جس سے اداروں پر عوامی اعتماد بھی یقینی ہے۔

ملاقات میں آڈیٹر جنرل نے گورنر سندھ کو بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی گذشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ برسوںسے التواء میں پڑی ہوئی آڈٹ رپورٹس کو جلد از جلد نمٹا نے کے لئے 6 سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جلد تمام اسٹیک ہولڈرز کی آگاہی کے لئے ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ افسران کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے کیونکہ آڈٹ کے نظام میں ان کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 22:55:00

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں