لاہور کے بعد ملتان میں بھی سپیڈو بس سروس کا آغاز کردیاگیا، افتتاحی تقریب کے دوران ..
تازہ ترین : 1
لاہور کے بعد ملتان میں بھی سپیڈو بس سروس کا آغاز کردیاگیا، افتتاحی ..

لاہور کے بعد ملتان میں بھی سپیڈو بس سروس کا آغاز کردیاگیا، افتتاحی تقریب کے دوران شہبازشریف مخالفین پر بھی برس پڑے۔

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ملتان میں سپیڈو بس سروس کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے سپیڈو بس کا معائنہ کیا اور اس میں سوار ہوئے۔ پہلے مرحلے میں ملتان میں11 روٹس پر 100 ائیرکنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی اور ان بسوں میں سفر کیلئے ای ٹکٹنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ملتان کے عوام کو سپیڈو بس سروس کے افتتاح پر مبارکباد دیتا ہوں۔

ملتان میں 100 سپیڈو بسوں کا افتتاح ہو رہا ہے۔ میٹرو بس سروس اور سپیڈو بس سروس میں عوام صرف 25 روپے میں باوقار طریقے سے سفر کرسکیں گے۔ ان بسوں میں معذور افراد کیلئے بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ پاکستان بھر میں لاہور کے بعد ملتان کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ یہاں شاندار بس سروس مہیا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کے جس سفر کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا ہے، اس کا پہلے کبھی کسی نے سوچا تک نہ تھا۔

لوگ جنوبی پنجاب کی بدحالی کی بات کرتے ہیں لیکن ملک کی تاریخ میں وہ کونسی حکومت تھی جس نے اس علاقے کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کئے۔ اس کا کریڈٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کو جاتا ہے جس نے جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی پر اربوں روپے کے وسائل نچھاور کئے ہیں۔ کھیتوں سے منڈیوں تک دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام پر 85 ارب روپے صرف کئے جاچکے ہیں اور ہزاروں کلومیٹر طویل دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے، جس سے دیہی معیشت میں انقلاب برپا ہوا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کی قیادت میں کسانوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ کھاد پر اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی ہے اور پنجاب حکومت نے چھوٹے کاشتکاروں کیلئے 100 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا پروگرام شروع کیا ہے اور اب تک 2 لاکھ سے زائد چھوٹے کسانوں کو یہ قرضے فراہم کئے جاچکے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کے بڑے پروگرام کا آغاز بھی جنوبی پنجاب سے ہی کیا جا رہا ہے۔

اس سال کے آخر تک منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ٹھیکے دے دیئے جائیں گے۔ مشکلات کے باوجود55 تحصیلوں میں صاف پانی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس سال اس منصوبے کیلئے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی اسی سال مکمل ہوگی۔ خانیوال سے لودھراں تک 23 ارب روپے کی لاگت سے 2 رویہ سڑک کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان۔

مظفرگڑھ سڑک کی تعمیر کا کام بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے پر 14 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ کوئی ہندسوں کا گورکھ دھندہ نہیں بتا رہا اور نہ ہی کوئی رام کہانی سنا رہا ہوں۔ یہ سب کچھ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میڈیا ہماری تعریف کرے بلکہ ہم نے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اس کے بارے میں ضرور لکھے اور عوام کو آگاہی دے۔

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے ملک اور پنجاب میں پھیل رہا ہے اور پنجاب حکومت نے اس مرض کی روک تھام اور قلع قمع کیلئے انقلابی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس بنائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شجاع آباد اور ملتان میں ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس کے فی الفور قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں یہ منصوبے آئندہ 4 ماہ میں مکمل کر لئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملتان تاریخی اور گنجان آباد شہر ہے۔ ہم نے لاہور سے جس موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا اجراء کیا ہے، یہ سروس چند ہفتوں میں ملتان بھی آئے گی اور اس شہر کے گلی محلے میں کسی حادثے کی صورت میں لوگوں کو فسٹ ایڈ دینے کے لئے پہنچے گی اور یہ انقلابی سروس صوبے کے 9 ڈویژن میں لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں 5 ارب روپے کی لاگت سے دو رویہ سڑک مکمل ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کیلئے جو سرمایہ کاری کی ہے اس کی ملک کی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ ہم نے جنوبی پنجاب کی ترقی پر اربوں روپے کے وسائل صرف کرکے کوئی احسان نہیں کیا۔ یہ ہماری ذمہ داری تھی جو ہم نے نبھائی ہے اور اس ذمہ داری کو آئندہ بھی نبھاتے رہیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ملتان میں سفاری پارک کے منصوبے پر فی الفور کام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایم ڈی میٹرو بس اتھارٹی کو ہدایت کی کہ ناگ شاہ سے ملتان تک فیڈر بس چلانے کا بھی جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں سپیڈو بس سروس میں کارڈ کے اجراء سے شہریوں کی مشکلات کے حوالے سے جو مسائل سامنے آئے ہیں اس کیلئے کمیٹی بنا دی ہے اور ایک دو روز میں اس حوالے سے جلد اعلان کروں گا جس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ فیڈر اورمیٹروبسوں پر سفر کرنے کیلئے’’ ایک مسافر ایک کارڈ‘‘کے مسئلہ کے حل کیلئے کمیٹی کام کررہی ہے تاکہ ایک کارڈ پر پورا خاندان سفر کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگلا پڑائو لودھراں میں ہے اور یہاں بھی جلد سپیڈو بس چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان میں نئی یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس کا کام جاری ہے۔ نشتر ہسپتال میں مریضوں کا بہت زیادہ رش ہونے کی بنا پر ملتان میں نشتر ہسپتال 2 بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس منصوبے پر اسی سال کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ملتان میں سپیڈو بس سروس کے اجراء پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کل کی بات ہے کہ اس تاریخی شہر میں میٹروبس کے تاریخی منصوبے کاقائد مسلم لیگ(ن) محمد نوازشریف نے افتتاح کیااورآج یہ منصوبہ جنوبی پنجاب کا ایک بہت بڑا بینج مارک بن گیا ہے۔

جنوبی پنجاب کو سینٹرل پنجاب کے ہم پلہ کرنے کیلئے بھر پور توجہ دی جاری ہے۔لاہور،راولپنڈی،اسلام آباد میٹروبس کے بعد پورے پاکستان میں اگر کہیں میٹروبس کامنصوبہ لگاہے تو وہ ملتان ہے ۔ ایسا عظیم الشان منصوبہ نہ کراچی نہ پشاوراور نہ ہی ملک کے کسی اورحصے میں ابھی تک لگا ہے ۔انہوںنے کہاکہ لاہور میں سال2013ء کے اوائل میں میٹروبس کا منصوبہ مکمل ہوا تو پی ٹی آئی کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے کہ لاہورمیں کیوںعام شہریوں کیلئے شاندار میٹروبس بنائی جارہی ہے۔

قرض خور اورسیاسی بنیادوں پر اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والے ،غریب عوام کی بینکوں میں جمع کرائی گئی پونجی لوٹنے والے جن میں جنوبی پنجاب کے بعض لوگوں کے نام شامل ہے ۔یہ مٹھی بھر اشرافیہ میٹروبس منصوبے کی شدید مخالفت کررہی تھی۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اوران کے نیاز مندوں نے اس عوامی منصوبے کو جنگلہ بس کہا اوراس پر 70ارب روپے خرچ ہونے کا بے بنیاد پراپیگنڈا کیاجس کا وہ آج تک کوئی ثبوت نہیں دے سکے۔

میں ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ میٹروبس کے اس منصوبے پر 30ارب روپے سے ایک دھیلا زیادہ خرچ نہیں ہوا ہے ۔دوسری جانب نیازی صاحب نے 2014ء میں ملک کی ترقی کا سفر روکنے کیلئے دھرنا دیا۔قوم کے قیمتی 7ماہ ضائع کر کے ملک کا نظام دھرم بھر م کیا اورقومی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ستمبر2014ء میں چینی صدر نے پاکستان میں سی پیک کے معاہدوں پر دستخط کرنے کیلئے آنا تھا لیکن پی ٹی آئی کی ضد اورہٹ دھرمی کے باعث یہ دورہ تاخیر کا شکار ہوا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کی ضد کے باعث ترقی و خوشحالی کے 7ماہ بر باد ہوئے۔اگرچین کے صدر کا دورہ 2014ء میں ہوجاتا تو کئی ایک منصوبے آسمان کی بلندیوں کوچھو رہے ہوتے۔نیازی صاحب کو عوام کی ترقی و خوشحالی سے کوئی غرض نہیںانہیں صرف اپنا ذاتی مفادعزیز ہے۔اسی لئے انہوںنے ملک وقوم کی ترقی کی مخالفت کی۔1320میگاواٹ کا ساہیوال کول پاور پلانٹ جو جون 2017ء میں مکمل ہوا ہے، اگرنیازی صاحب دھرنے کی وجہ سے قوم کا وقت ضائع نہ کرتے تو یہ منصوبہ جون2016ء میں مکمل ہوجاتا ، جس سے پاکستان کو بے پناہ فائدہ ہوتا۔

لاہوراورنج لائن میٹروٹرین کی مخالفت بھی اسی گروپ نے کی اورپھر خود 2014ء میں پشاور میں میٹروکا اعلان کردیا۔آج سوا چار سال گزرنے کے باوجود یہ پشاور میں منصوبے کی ایک اینٹ بھی نہیں لگاسکے ہیں ۔پی ٹی آئی نے عدالتوں کا سہارا لے کراس عظیم الشان منصوبے میں رکاوٹیں پیدا کیں اوران کی وجہ سے اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کے 11پوائنٹس پر کام روکا ہوا ہے ۔

اگر ان کی عقل کام کرتی تو یہ جس طرح لاہور میں اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے سٹے آڈر کا سہارا لیا،اسی طرح یہ ملتان اورراولپنڈی ،اسلام آباد میٹروبس کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے سٹے آڈر کی درخواست دے سکتے تھے ۔جو لوگ پشاور میں کچھ نہ کرسکے وہ پنجاب کے عوام کے فلاحی منصوبوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔میںپشاور کے غیور بہن بھائیوں سے کہتا ہوں کہ اگر کے پی کے میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہوتی تو 11ماہ میں پشاور میں بھی میٹروبس کا منصوبہ لگا دیتے ۔

انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی مجھے دل و جان سے عزیز ہے اوراس خطے کی ترقی وخوشحالی کیلئے اقدامات کرتے رہیں گے۔قبل ازیںوزیراعلیٰ پنجاب کو ایم ڈی پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سبطین فضل علیم نے بتایا کہ ملتان شہر میں پہلے مرحلے میں 11روٹس پر 100ائیرکنڈیشنڈ بسیںچلائی جارہی ہیںجن کے لئے مجموعی طور پر 258سٹاپس مقررکئے گئے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈر بسوں کے روٹس کو 21میٹرو بس اسٹیشنز سے لنک کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈر بسوں پر میٹرو بس کارڈ کے ذریعے سر کیا جاسکے گا۔ میٹرو بس کارڈ 200روپے میں دستیاب ہوگا جس میں 130روپے قابل واپسی ہوں گے جبکہ اس میں 70روپے کا بیلنس ہوگا۔ میٹرو بس کا رڈ 21میٹرو بس اسٹیشنز اور 12سیل پوائنٹس پر دستیاب ہے۔ ان مقامات پر کارڈ کو چارج کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔

اب تک 22ہزار میٹرو بس کارڈ فروخت ہوچکے ہیں۔ ایم ڈی نے بتایا کہ لاہور اور ملتان میں فیڈر بسوں کا ایک ہی کرایہ مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ دنیا کا بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔ ان تمام روٹس پر بسوں کی سرویلنس کے لئے 257کیمرے لگائے جائیں گے۔وفاقی وزراء ملک سکندر حیات بوسن،سید جاوید علی شاہ،صوبائی وزراء مجتبیٰ شجاع الرحمان ،نغمہ مشتاق لانگ،میئر ملتان نوید الحق،چیئرمین ضلع کونسل دیوان عباس بخاری ،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اورلوگوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 18:55:48

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں