جیکب آباد،محکمہ ایکسائیزاینڈ ٹیکسیشن میں کروڑوں کا غبن ،صوبے میں سیکڑوں گاڑیاں ..
تازہ ترین : 1

جیکب آباد،محکمہ ایکسائیزاینڈ ٹیکسیشن میں کروڑوں کا غبن ،صوبے میں سیکڑوں گاڑیاں بلاک کر دی گئیں

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء)محکمہ ایکسائیزاینڈ ٹیکسیشن میں کروڑوں کا غبن صوبے میں سیکڑوں گاڑیاں بلاک کر دی گئی افسران کی فرضی آئی ڈی بنا کر موٹروہیکل ٹیکس کی مد میں کرپشن یہ فراڈ پورے سندھ میں ہوا ہے میرا نام بھی استعمال کیا گیا ہے ای ٹی او صابرسومرو تفصیلات کے مطابق ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ سندھ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہو اہے جس کے تحت افسران کی جعلی آئی ڈی بناکر گاڑیوں کے ٹیکس وصول کئے گئے پر وصول کئے گئے پیسے سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوئے موٹر وہیکل کی مد میں ہونے والی اس میگا کرپشن کا بھانڈااس وقت پھٹا جب جیکب آباد کے ای اٹی او محمد صابر سومروکے نام سے فرضی آئی ڈی بناکر ٹیکس وصول کی گئی اس سلسلے میں سابق ای اٹی او جیکب آباد محمد صابرسومرو نے بتایا کہ 8اور9ویں مہینے میںمیری فرضی آئی ڈی کے ذریعے 32لاکھ کا فراڈ کیا گیا ہے یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب سکھر آیا تو ایک گاڑی نمبر bc3309کی ٹرانسفر کی تصدیق کے لئے مجھے کہا چیک کی تو معلوم ہوا کہ وہ میرے آئی ڈی کے ذریعے ہوئی ہیڈے بک بھی چیک کرایا ہے میرے نام سے جن تاریخوں میں جن گاڑیوں کی ٹیکس لی گئی اسکی فہرست ہے انہوں نے بتایا کہ جن گاڑیوں کی ٹیکس جمع کی گئی ہے سب کا تعلق کراچی سے ہے صابر سومرو کا کہنا تھا کہ مجھے اپروو کا کوڈ دیا گیا ہے پر میرے نام سے ٹیسکسٹ کی صورت میںفرضی آئی ڈی بناکر یہ فراڈ کیا گیا ہے یہ فراڈ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ دیگر اضلاع میں بھی ہوا ہے لاڑکانہ میں ڈیڑھ کروڑ کاگھپلا ہوا ہے اسکے علاوہ سانگھڑ ،میرپور خاصاور دیگر اضلاع شامل ہیں اس حوالے سے محکمہ کے بالا افسران کو خط لکھا ہے اور بتایا ہے کہ میری آئی ڈی کا غلط استعمال ہوا ہے میرے ساتھ زیادتی ہے مذکورہ غاریان بلاک کی جائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان گاڑیوں کے مالکان نے کس کائونٹر پر ٹیکس جمع کرایا ہے جن کو کمپیوٹر کا معلو م نہیں ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا فراڈ کیا گیا ہے میرے ساتھ انصاف کیا جائے ورنہ اینٹی کرپشن اور نیب جائوں گا علاوہ ازیں کراچی سے 3رکنی ٹیم مہران خان ،خاوند بخش اور چاچڑ نے جیکب آباد ایکسائیز آفیس پہنچ کر تحقیقات کی اور کمپیوٹر چیک کیا مزید تحقیقات جاری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 17:02:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں