ذہنی بیماری میں مبتلا ہر شخص اپنے گھر اور معا شرے کا کار آمد فرد بن سکتا ہے،ڈاکٹر ..
تازہ ترین : 1

ذہنی بیماری میں مبتلا ہر شخص اپنے گھر اور معا شرے کا کار آمد فرد بن سکتا ہے،ڈاکٹر سید مبین اختر

گلستان جوہر میں خواتین کے ہونے والے واقعات میں ملوث شخص بھی کوئی ذہنی مریض ہی ہوسکتا ہے، مقررین کا خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء) ذہنی بیماری میں مبتلا ہر شخص اپنے گھر اور معا شرے کا کار آمد فرد بن سکتا ہے۔ایک با مقصدزندگی گزارنے کیلئے اچھی جسمانی اور ذہنی صحبت لوگوں کیلئے بہت ضروری ہے ۔بزرگ اور بڑی عمر کے افراد کا بہتر تعلقات کے ساتھ ایک کا میاب اور پر سکون زندگی کیلئے جسمانی ،ذہنی اور معا شرتی طور پرتندرست ہو نا بے حد ضروری ہے ۔

ذہنی امراض بنیادی طور پر دماغ میں کیمیا ئی تبدیلیوں اور خاندانی اثرات کی و جہ سے پیدا ہو تے ہیں۔ان خیالات کا اظہار منتظم اعلیٰ کرا چی نفسیاتی ہسپتال ڈاکٹر سید مبین اختر نے مر کزی سما عت گاہ ناظم آباد میں عالمی یو مِ ذہنی صحت کے حوالے سے منقدہ میڈیا بریفنگ سے اپنے خطاب میں کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر اختر فرید صدیقی اور ڈاکٹر صلاح الدین بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

انھوں نے کہا 25فیصد آبا دی ذہنی امراض سے متا ثرہے یعنی ہر چار میں سے ایک شخص ذہنی بیمار ہو تا ہے ۔معا شرتی مسا ئل کا نشا نہ تو سب بنتے ہیں تا ہم زیا دہ متا ثر ہو نے والے معمول کے کام انجام نہیں دے سکتے اور بعض اوقات ان کے گھر والے بھی انکی ذہنی کیفیت سے لا علم رہتے ہیں اسطرح پا کستان میں 3سے 4کڑور افراد ذہنی مرض میں مبتلا ہیں ایک اندازے کے مطا بق 70فیصد کسی بھی معالج کے پاس نہیں جا تے ۔

کم علمی ،جہالت اور معا شرتی بد نا می کے خوف سے جعلی حکیموں،اطا ئیوں اور بابا ؤں کے مزاروں کے چکر لگا تے ہیں۔اکثر علاج کے لئے آنے والوں میں ڈپریشن کے 26.2فیصد جنون ویا سیت کے 13فیصد شدید گھبرا ہٹ اور خوف کی5فیصد خیالات کا تسلط اور تکرار عمل کے 4.3فیصد شیزو فرینیا کے 15فیصد اور جنسی نفسیاتی امراض کے 13.1فیصد ہو تے ہیں۔انھوں کے کہا کہ ورلڈمینٹل ہیلتھ ڈے کا قیام 66سال قبل 1948میں ہوا ۔

جسکے 150سے زائد ممالک میں ممبران موجود ہیں اس کے قیام کا مقصد دنیا کو ذہنی اگا ہی اور اسکے تدارک سے مکمل اگا ہی فرا ہم کر نا ہے ایک اچھا ڈاکٹر صرف بیماری کوٹر یس نہیں کر تا بلکہ وہ انسان کے اندر خود اعتماری اور عزت نفس کو بحال کر نے میں مدد فرا ہم کر تا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 300سے 400 ماہر ذہنی امراض موجود ہیںجو کہ 20کڑور کی آبا دی کیلئے بہت ہی کم ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ ذہنی بیما ریوں میں فوراً ما ہر نفسیات سے را بطہ کر تے ہیں تووہ بہتری کی طرف آجا تے ہیں لیکن تاخیر کر نے والے گھر والوں اور معا شرے کیلئے بھی پریشا نیا ں پیدا کر تے ہیں ۔مریض کے گھر والوں کو بھی چا ہیے کہ وہ ڈاکٹروں سے تعا ون کر کے مریض کی مکمل کیفیات سے آگا ہ اور دوا ئیں وقت پر کھلانے میں ڈاکٹر ز کی مدد کریں۔گلستان جوہر کے حوالے سے میڈیا کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلستان جوہر میں خواتین کے ہونے والے واقعات میں ملوث شخص بھی کوئی ذہنی مریض ہی ہوسکتا ہے۔اس موقع پرذہنی امراض کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 17:02:17

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں