آئی بی خط کا معاملہ; تحقیقات سے قبل کسی میڈیا چینل پر مقدمہ ہونا نامناسب ہے۔ چودھری ..
تازہ ترین : 1

آئی بی خط کا معاملہ; تحقیقات سے قبل کسی میڈیا چینل پر مقدمہ ہونا نامناسب ہے۔ چودھری نثار علی خان

ٹیکسلا(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 اکتوبر 2017ء): ٹیکسلا میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ عدالت سے کسی قسم کی محاذا آرائی نہیں ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے محاذ آرائی پارٹی، نواز شریف ، ملک اور اداروں کے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور ملکی اداروں کے خلاف محاذ آرائی پارٹی کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں حکومت کا حصہ نہیں ہوں لیکن میں قومی اسمبلی کا رکن ہوں۔ نیب کیسز سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف کیسز کا فیصلہ عدالتوں میں ہو گا۔ جو ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں عدالت ان پر حقائق پر فیصلہ کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک عدالت میں نہیں آیا تو دوسری میں چلے جائیں گے۔ ایک سال بعد یا کبھی تو انصاف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت میں جا کر پورے زرو وشور کے ساتھ اپنا کیس لڑنا چایئیے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت اور قانون ہے۔ جلتی پر تیل نہیں ڈال رہا لیکن کیسز کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہونا چاہئیے ۔ کیونکہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے کسی اور نے نہیں ۔ سپریم کورٹ اس ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور ہمیں ان عدالتوں سے محاذ آرائی کسی صورت نہیں کرنی چاہئیے۔

اداروں پر تنقید سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے قانون اور آئین کا حصہ ہے اور ہم سب نے اس بات کا حلف اٹھایا ہوا ہے کہ اداروں پر تنقید نہیں ہو گی ۔ میں شروع سے لے کر اب تک اپنے موقف پر قائم ہوں۔ ہمیں عدلیہ کو نشانہ تنقید نہیں بنانا چاہئیے۔ جمہوری ممالک کے فیصلے عدالتوں میں ہی ہوتے ہیں۔ ہمیں محاذ آرائی نہیں کرنی چاہئیے۔ کیونکہ اگر ایک عدالت میں انصاف نہیں ملتا تو دوسری میں مل جائے گا۔

یا پھر سال بعد مل جائے گاْ۔ عدالتوں کو برا بھلا کہنا پارٹی لیڈر شپ ، پارٹی یا ملک کے حق میں نہیں ہے۔میں نے شروع میں اس بات کا اظہاربھی کیا تھا جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان نے کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ اداروں اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہونی چاہئیے پارلیمانی میٹنگ میں بھی یہ بات دہرائی گئی ۔ وزیراعلیٰ پنجاب بھی یہی بات بارہا کہہ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے یہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا کام ہے کہ اس پر عملدرآمد کروائیں۔

اپنے گھر کے حوالے سے میرا موقف واضح ہے ۔ وزیر اعظم یا ان کے وزرا بیان بازی کی بجائے گھر کو صاف کرنے میں وقت صرف کریں گے تو بہتر ہو گا۔ جب بات بیان بازی پہ آ جاتی ہے تو بھارت اور امریکہ جیسے ممالک کے بیانیے ملتی ہے ۔ لہٰذا ایسے بیانات دے کر ان ممالک کے بیانیے کو تقویت نہ دیں۔ حکومت کی باگ دوڑ آپ کے ہاتھ میں ہے گھر صاف کریں اور قوم کو بتائیں کہ ہم نے یہ یہ اقدامات کیے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں مجموعی طور پر میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے پالیسی وہی بنتی ہے جس کا پارٹی لیڈر شپ فیصلہ کرے شروع میں دو رائے تھیں ، لیکن اس وقت جو وفاقی اور صوبائی حکومت کے سربراہ ہیں وہ عوامی اور میٹنگز میں واضح کہہ چکے ہیں کہ اداروں کو ہدف تنقید بنانا پارٹی پالیسی نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔

چودھری نثار علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کے پاک امریکہ مشترکہ آپریشن سے متعلق بیان پر تشویش کا اظہار کیا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ہم کسی کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت کیوں دیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان کی تصدیق یا تردید ہونی چاہئیے۔ اگر ہم کسی اور طاقت کو کہیں کہ ہمارے ملک میں آ کر آپریشن کرے تو یہ ملک کے لیے تضحیک آمیز ہے۔

ملک بھر میں پاکستان کی اپنی سکیورٹی فورسز کی جانب سے سینکڑوں آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی سکیورٹی فورسز میں صلاحیت ہے کہ وہ خود آپریشنز کر سکیں۔ ہاں لیکن اگر کسی کو خوش کرنے کے لیے مشترکہ آپریشن کرنا ہی ہے تو وہ دو طرفہ ہونا چاہئیے۔ اگر پاکستان میں مشترکہ آپریشن ہو گا تو آپریشن افغانستان میں بھی ہونا چاہئیے ۔ اگر کسی کو شک یا اعتراض ہے کہ پاکستان میں کوئی گروپس ہیں جو دہشتگردہیں تو ہمارے پاس افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کے ثبوت ہیں جو دن کے اجالے میں گروپس کے ساتھ مل کر کام کرہے ہیں اور افغانستان بھر میں آپریٹ کر رہے ہیں۔

وہاں آپریشن کرنے کی ذمہ داری صرف افغانستان کی نہیں بلکہ وہاں موجود غیر ملکی سکیورٹی فورسز کی بھی ہے جس میں زیادہ تعداد امریکی فوج کی ہے۔ اگر کوئی پروپوزل دینا ہی ہے تو دو طرفہ ہونا چاہئیے ورنہ اس چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پاک افواج مسلح ہیں اور مضبوط بھی ہیں ۔ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور ایک خودمختار ملک کبھی بھی اپنی حدود میں آپریشن کی اجازت نہیں دیتا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر افواج اور حکومت کے مابین کوئی تناؤ آ بھی جائے تو اس پر بیان بازی نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ ایسے بیانات سے امریکہ اور بھارت جیسے ممالک کے پاکستان مخالف نظریے کو تقویت ملتی ہے۔ شیخ رشید سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب کا معلوم نہیں کون سی سیاست کرتے ہیں ، وہ خود مختار ہیں تجزبہ کار ہیں اور میرا خیال ہے کہ بالغ بھی ہیں اور اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔

شیخ صاحب بتا دیں میں نے انہیں کیا مویس کیا ہے۔ میری سیاست کا محور شیخ رشید کی مایوسی نہیں ہے میں نے اپنی سوچ کے مطابق بہتر راستہ اختیار کرنا ہے۔ شیخ صاحب کا کوئی قرضہ نہیں دینا جو ان کے مطابق سیاست کروں ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی باگ دوڑ جب میرے پاس تھی تو وزارت داخلہ متحرک تھی۔ اس دور میں ایف آئی اے کے ونگ کے ساتھ مل کر ہم نے نہ صرف عسکریت پسند لوگوں کی نشاندہی کی بلکہ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں ۔ آئی بی کے خط سے متعلق بات کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی مقدمہ تحقیقات سے قبل درج کرنا مناسب نہیں ہے ۔ میڈیا کی حساس پوزیشن پے ایک میڈیا چینل کے خلاف تحقیقات سے قبل ایف آئی آر درج کرنا نا مناسب ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 16:15:31

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں