امداد باہمی کے فلسفہ کا سرچشمہ ایک دوسرے کی مددکرنا اور مشترکہ کاروبار پر عمل ..
تازہ ترین : 1
امداد باہمی کے فلسفہ کا سرچشمہ ایک دوسرے کی مددکرنا اور مشترکہ کاروبار ..

امداد باہمی کے فلسفہ کا سرچشمہ ایک دوسرے کی مددکرنا اور مشترکہ کاروبار پر عمل کرناہے‘ ملک اقبال چنٹر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء)محکمہ امدادباہمی کے زیر اہتمامقامی ہو ٹل میں’’ امداد باہمی اور اس کی افادیت‘‘ کے مو ضوع پر سیمینارمنعقد ہو ا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو آپر یٹوملک محمد اقبال چنڑ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امداد باہمی کے فلسفہ کا سرچشمہ ایک دوسرے کی مددکرنا اور مشترکہ کاروبار پر عمل کرناہے۔

کوآپریٹو ادارے کسی بھی ملک یا نظام کا ایک اہم جزو ہوتے ہیں۔ منظم اور فعال کوآپریٹوادارے کسی بھی تحریک کو بام عروج پر پہنچا سکتے ہیں ۔ منعقدہ سیمینار میں سابقہ ممبران صوبائی اسمبلی ،سیکرٹری کو آپر یٹو ، رجسٹرارکو آپریٹو ودیگر شرکاء کرام وحاضرین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صو بائی وزیر کو آپریٹو نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان میں تحریک امدادباہمی کے زوال کی بنیادی وجہ اداروں کی بدحالی ہے اس لیے ہمیں اداروں کو از سر نوں بحال کرنا پڑے گا۔

امدادباہمی کے زریں اصولوں میں ایک اہم اصول بچت و کفایت شعاری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کی روشنی میں محکمہ امداد با ہمی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور دور رس نتائج کے حصول کے لئے حکمت عملیاں تیار اور ان پر عملدرآمد شرو ع کر دیا گیا ہے ۔بنک سالانہ 11 ارب روپے سے زائد کے کے قرصہ جات کاشتکاروں اورکسانوں کو ان کی ضروریات کے مطا بق نہایت آسان شرائط پر تقسیم کر رہا ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ صوبہ بھر کی تمام کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں میںممبران کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے نئی جدت لائی گئی ہے۔ممبران کے ٹرانسفر آف پلاٹ بائیو میٹرک کے ذریعے طے پا رہے ہیں۔صوبہ بھر کے تمام کو آپریٹو دفاتر کو10 کروڑ روپے کی لاگت سے کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔تمام کو آپریٹو دفاتر میں ہائوسنگ سوسائیٹیوں کے مسائل کے حل کے لئے ٹیکنیکل ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔محکمہ بارانی علاقوں کے کاشتکا روں کے لئے ٹریکٹر کی خریداری کے لئے بلا سود قرضہ جات فراہم کر رہا ہے۔جس کے لئے حکومت نی300ملین روپے کے فنڈزکو آپریٹو سو سائٹیز کو مہیا کر دیئے ہیں۔آخر میں دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 14:21:39

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں