12 اکتوبر 1999 سیاسی اور جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ‘
تازہ ترین : 1
12 اکتوبر 1999 سیاسی اور جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ‘

12 اکتوبر 1999 سیاسی اور جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ‘

اس روز آمرانہ اقدام پاکستان کی ترقی روکنے کی سازش تھی‘جمہوری عمل کو سبوتاژ نہ کیا جاتا تواب سنگین مسائل کا سامنا نہ ہوتا‘غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام کے منفی نتائج آج بھی قوم بھگت رہی ہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا 12 اکتوبر ’’یوم سیاہ‘‘ کے موقع پر بیان

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2017ء)12 اکتوبر 1999 کو سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا اور اب اس واقعے کو 18 سال بیت گئے۔ اس سیاہ ترین دن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 12 اکتوبر 1999 کا دن سیاسی اور جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اور 12 اکتوبر 1999 کا آمرانہ اقدام پاکستان کی ترقی روکنے کی سازش تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ جمہوری عمل کو سبوتاڑ نہ کیا جاتا توآج سنگین مسائل کا سامنا نہ ہوتا، آمرانہ حکومتوں میں ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ڈکٹیٹر نے منتخب جمہوری حکومت کا غیر آئینی طریقے سے تختہ الٹایا، غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام کے منفی نتائج آج بھی قوم بھگت رہی ہے۔یاد رہے کہ 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف بنایا لیکن جبری ریٹائر کیے گئے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کا فیصلہ قبول نہ کیااور جمہوری وزیراعظم کو ہتھکڑی لگا دی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/10/2017 - 12:17:22

اپنی رائے کا اظہار کریں