ایشاء فاونڈیشن کی کنٹری ہیڈمس صوفیہ اور برٹش ہائی کمیشن کے شعبہ رول آف لاء کی سربراہ ..
تازہ ترین : 1
ایشاء فاونڈیشن کی کنٹری ہیڈمس صوفیہ اور برٹش ہائی کمیشن کے شعبہ رول ..

ایشاء فاونڈیشن کی کنٹری ہیڈمس صوفیہ اور برٹش ہائی کمیشن کے شعبہ رول آف لاء کی سربراہ مس سوزن کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات

صوبے سے سب ڈویژن تک حق و انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے صدق دل سے کوشاں ہیں، جسٹس سید منصور علی شاہ ایسا عدالتی نظام لانا چاہتے ہیں جس سے مقدمات کے فیصلے سالوں اور مہینوںکے بجائے ہفتوںاور دنوں میں ہوں، گفتگو

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2017ء) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ سے ایشاء فاونڈیشن کی کنٹری ہیڈمس صوفیہ اور برٹش ہائی کمشن کے شعبہ رول آف لاء کی سربراہ مس سوزن نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر رجسٹرارہائی کورٹ سید خورشید انور رضوی ، پرنسپل سٹاف آفیسر ٹو چیف جسٹس شاہد شفیع اور ایشاء فاونڈیشن کے نمائندہ ڈیشان علی بھی موجود تھے ۔

سید منصور علی شاہ نے ملاقات کے دوران ان اقدامات کا ذکر کیا جو عدلیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عدالتی اصلاحات کامقصد عام آدمی تک فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا وقار بلند کرنا اور عدالتی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہاکہ وکلا ء لا ء افسران ، تمام متعلقہ اداروں اور شہریوں کے تعاون سے صوبائی سطح سے لے کر سب ڈویژن کی سطح تک حق و انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے صدق دل سے کوشاں ہیں اور روائتی عدالتی نظام میں پائی جانے والی خرابیاں دور کرکے ایسا سسٹم ڈیویلپ کر رہے ہیں جس سے مقدمات کے فیصلے سالوں اور مہینوںکے بجائے ہفتوںاور دنوں میں ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ باہمی تعاون اورتمام اسٹیک ہولڈرز کی پرخلوص کوششوں سے بہترین نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور مقدمات کے فیصلوں میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشری میں اصلاحات کا عمل باہمی مشاورت سے جاری ہے اور اجتماعی کوششوں سے مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ ایشاء فاونڈیشن اور برٹش ہائی کمیشن کے نمائندوں نے فوری انصاف کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوںنے کہاکہ انصاف کی راہ میں حائل روکاوٹیں دور ہونے سے ہی معاشرے میں امن ، ترقی اور استحکام لایا جاسکتا ہے اور اس مقصد کے لئے عدالت عالیہ میں ترقی کا عمل خوش آئند ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/10/2017 - 22:12:31

اپنی رائے کا اظہار کریں